فیسوں میں اضافے کے بعد لمز نے طلباء کو ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت کر دی

کورونا وبا کے آغاز پر بہت سے سٹوڈنٹس اپنا سامان ہاسٹل ہی چھوڑ آئے تھے مگر اب انہیں ریگولر کلاسز شروع نہ ہونے اور کورونا کے بڑھتے خطرے کے باوجود یونیورسٹی پہنچ کر ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، طلبہ و طالبات جامعہ کے اقدام پر شدید نالاں

307

لاہور : ملک کی معروف جامعہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے طلباء سے  ہاسٹل خالی کروانے کا فیصلہ کر لیا۔

اس مقصد کے لیے ہاسٹل میں قیام پذیر تمام طلباء کو یونیورسٹی آنے کا کہا گیا ہے تاکہ ہاسٹل خالی کرنے کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔

یونیورسٹی کی جانب سے طلباء کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ ’’ہاسٹل کے کمروں کی سالانہ مرمت اور تزئین و آرائش شروع ہونے والی ہے لہٰذا یونیورسٹی پہنچ کر ہاسٹل سے اپنے انخلا کا عمل مکمل کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:

کورونا سے متاثرہ عالمی اقتصادی شرح نمو میں آئندہ سال بہتری متوقع، ورلڈ بینک

وباء کے دِنوں میں یونیورسٹیاں وہ مت کریں جو لمز نے کیا

لمز اور آئی بی اے کی ڈگریاں آپکو ملازمت کیوں نہیں دلوا سکتیں؟

 اس سے پہلے مارچ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز پر لمز نے طلباء سے ہاسٹل خالی کروا لیا تھا جس پر زیادہ تر طلباء اس امید پر اپنا سامان ہاسٹل میں ہی چھوڑ آئے تھے کہ چند دنوں کے بعد سب معمول پر آ جائے گا۔

تاہم کورونا کیسز میں اضافے کے باعث یونیورسٹی نے ریگولر کلاسز کی بجائے آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا اس دوران ہاسٹل بند رہا۔

 لمز ملک کا ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے اور ملک کے طول و عرض سے طلباء علم کے حصول کے لیے اس کا رخ کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کی جانب سے ہاسٹل خالی کرنے اور سامان اُٹھانے کی ہدایت پر طلباء شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی اکثریت نے اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔

طلباء کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، یونیورسٹی ہمیں سفر پر مجبور کرکے ہماری زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے۔

اس سے پہلے بھی لمز نے کورونا وباء کے دنوں میں فیسوں میں 41 فیصد اضافہ کرکے طلباء اور ان کے والدین کی پریشانی میں اضافہ کیا تھا جس پر یونیورسٹی کو شدید تنقید کا سامنا بنایا گیا تھا اور اسے اپنے اقدام کی متعدد وضاحتیں جاری کرنا پڑی تھیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here