خیبر پختونخوا کا ورلڈ بنک کی معاونت سے لاکھوں ایکڑ بنجر رقبہ زرعی استعمال میں لانے کا فیصلہ

30 ارب روپے کے منصوبے کے تحت صوبے کی 14 ہزار 260 نہروں کی مرمت کے علاوہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے تالابوں کی تعمیر اور 11 ہزار 650 ایکڑ رقبے پر آبپاشی کا نیا نظام قائم کیا جائے گا

247

پشاور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی 7 لاکھ 90 ہزار ایکٹر بنجر زمین کو آباد کرنے کے لیے ورلڈ بنک سے قرضہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قرض کا حجم 24 ارب روپے بتایا جارہا ہے ۔

اس بات کا فیصلہ خیبر پختونخوا کے وزیر برائے زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں وزارت کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد اسرار،  فارم واٹر مینجمنٹ ڈائریکٹر جنرل جاوید اقبال، ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹرز نصیب الرحمان خٹک اور زراعت کے چیف پروکیورمنٹ آفیسر سید مرتضیٰ شاہ بھی شریک تھے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زمینوں کی آبادکاری کے منصوبے کی کل لاگت 30 ارب روپے رکھی جائے گی جس کے لیے عالمی بنک سے 24 ارب ڈالر کا قرض لیا جائے گا جبکہ 6 ارب روپے صوبائی حکومت اپنے پاس سے خرچ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا سے متاثرہ عالمی اقتصادی شرح نمو میں آئندہ سال بہتری متوقع، ورلڈ بینک

قومی ائیر لائن پھر خسارے کا شکار، ماہانہ بنیادوں پر بھاری نقصان ہونے لگا

فواد چودھری کی متحدہ عرب امارات کو زراعت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی دعوت

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت محب اللہ خان کا کہنا ہے کہ ’’ منصوبے کے تحت حکومت صوبے میں زراعت کے شعے کو فروغ دینے کے علاوہ اسے جدید خطوط پر استوار کرے گی تاکہ اس کی پیداوار کو بڑھایا جاسکے’’۔

 انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت چھ سالوں میں 14 ہزار 260 نہروں کی مرمت کی جائے گی، 5 ہزار میٹرک ٹن پانی ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب تعمیر کیے جائینگے۔

اس کے علاوہ 11 ہزار 650 ایکڑ رقبے پر آبپاشی کا نیا نظام قائم کیا جائے گا جس سے 66 ہزار ایکڑ کا رقبہ سیراب  ہوگا جس میں 25 ہزار ایکڑ کا بنجررقبہ بھی شامل ہے۔

اُدھر ذرائع نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ بی آر ٹی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت 2013ء سے اب تک عالمی مالیاتی اداروں سے  350 ملین ڈالر کے قرضے لے چکی ہے مگر پھر بھی فی الحال منصوبے کی جلد تکمیل ہوتی نظر نہیں آتی۔

مزید برآں مالی سال 2019 کے اختتام تک صوبے کا قرض 193.70 ارب روپے تھا جس میں مزید قرض لیے جانے کی وجہ سے  کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بھی صوبے کے قرضوں کے حجم میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here