اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو چینی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

ملز مالکان کی جانب سے چینی 70 روپے فی کلو فروخت کرنے پر رضامندی، عدالت نے 10 دن کے لیے مشروط حکم امتناع جاری کر دیا

324

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو چینی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سے 10 روز کیلئے روک دیا  جس میں صنعتوں کو عوامی پیسے کا غلط استعمال اور کارٹلائزیشن کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔

شوگر ملز مالکان کی جانب سے چینی 70 روپے فی کلو فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد عدالت نے 10 دن کے لیے چینی کمیشن رپورٹ پرعمل درآمد پر مشروط حکم امتناع جاری کر دیا۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بنائے گئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی۔

 درخواست گزاروں نے دعوٰی کیا کہ تحقیقاتی رپورٹ آئین کے مینڈیٹ اور 2017 کے ایکٹ کے تحت تشکیل دیئے جانے والے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کی حدود سے تجاوز کرتی ہے کیونکہ یہ صوبوں کے خصوصی قانون سازی اور ایگزیکٹو ڈومین کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا الگ الگ ذکر موجود ہے۔ فروری 2020 میں کارروائی کے لیے ایڈہاک کمیٹی بنائی گئی، انکوائری کمیشن نے شوگر ملز کے فارنزک آڈٹ کے لیے وفاقی حکومت کو لکھا، کمیٹی نے تجویز دی ویسے ہی وہ کمیشن بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی سبسڈی، اسد عمر پر کس نے دبائو ڈالا؟

چینی کمیشن کی رپورٹ کسی کو پھنسانے کی کوشش؟ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے تحقیقات مسترد کر دیں

کیا پاکستان چینی قرضوں کے چنگل میں پھنس رہا ہے؟ دفتر خارجہ کا بیان سامنے آ گیا

جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ اس کمیشن نے پھر کیا کہا؟ چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ کمیشن نے 324 صفحات کی رپورٹ میں بہت زیادہ وجوہات بیان کی ہیں، کمیشن نے سفارش کی کہ ایف بی آر، ایف آئی اے، نیب کو ملزمان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے پوچھا کہ کمیشن نے کیا بتایا کہ عام صارف کے لیے چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ چینی عام آدمی کی ضرورت ہے، حکومت کو بھی اس حوالے سے ہی اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سادہ سی بات ہے کہ عام آدمی کا بنیادی حق ہے کیونکہ 30 فیصد چینی عام آدمی کے لیے ہوتی ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی اور کمرشل استعمال کی چینی کی قیمت کو کمیشن نے الگ الگ نہیں کیا، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگرکمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا؟

مخدوم علی خان نے کہا کہ انکوائری کمیشن کا مقصد عام آدمی کو ریلیف مہیا کرنا نہیں بلکہ ہمارا میڈیا ٹرائل تھا، وزیراعظم کے معاون خصوصی کے ذریعے شوگر ملز مالکان کا میڈیا ٹرائل کرایا گیا، گزشتہ روزبھی اس حوالے سے پریس کانفرنس کی گئی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی؟ مخدوم علی خان نے بتایا کہ نومبر 2018ء میں چینی کی قیمت 53 روپے فی کلو تھی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم حکومت کو نوٹس کر کے پوچھ لیتے ہیں لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کی قیمت پرچینی فروخت کریں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کو شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کاروائی سے بھی روک دیتے ہیں، یہ عدالت عمومی طور پرایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔

چیف جسٹس نے شوگر ملزمالکان کے خلاف کارروائی پرحکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ عام عوام کو اگلے 10 روز تک چینی 70 روپے فی کلو فراہم کی جائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاق عدالت کے آپشن کی مخالفت کرے گا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ مخالفت نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہاں پر مفاد عامہ کا سوال سامنے آیا ہے، جس مقصد کے لیے کمیشن بنا تھا وہ ایڈریس ہی نہیں ہوا، کمیشن کو عام آدمی کو چینی کی سہولت فراہمی کے لیے کچھ کرنا تھا لیکن نہیں کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق، کمیشن کے سربراہ واجد ضیاء، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ اور انکوائری کمیشن کے ارکان سمیت درخواست کےتمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں شوگر ملز مالکان نے چینی کمیشن کے قیام کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

اس درخواست میں وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر، وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ ، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 16 مارچ کو شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل کی جو کہ غیر قانونی تھی لہٰذا اس اقدام کو کلعدم قرار دیا جائے۔

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے ) کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں قائم کیے گئے کمیشن نے ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار شوگر ملز کے غیر قانونی اور ناجائز اقدامات کو قرار دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here