کابینہ اجلاس: وزیر اعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا نوٹس، 48 گھنٹوں میں سپلائی یقینی بنانے کا حکم

پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، ایف آئی اے اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ چھاپہ مار ٹیمیں پٹرولیم کمپنیوں کے ڈپوز کا معائنہ کریں، مقررہ سٹاک نہ رکھنے والی مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں: وفاقی کابینہ کی ہدایت

186

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مصنوعی قلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وزارت پٹرولیم اور اوگرا آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں پٹرول کی باقاعدہ سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے۔

اجلاس کے دوران کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، ایف آئی اے اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان پر مشتمل مشترکہ چھاپہ مار ٹیمیں پٹرولیم کمپنیوں کے ڈپوکا معائنہ کریں اور ان کے پاس کسی بھی جگہ داخلے کا مکمل اختیار ہو گا، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف گرفتاری اور ذخیرہ شدہ پٹرولیم مصنوعات کو زبردستی جاری کرنے سمیت قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں جو اپنے لائسنس کی شرائط  کے مطابق مقررہ کردہ اسٹاک رکھنے میں ناکام رہیں گی ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جس میں لائسنس کینسل کیا جانا اور بھاری جرمانہ شامل ہے۔

وزارت توانائی کی جانب سے کابینہ کو بتایا گیا کہ جون 2019 میں کل سپلائی 650000 میٹرک ٹن تھی جبکہ اس سال جون کے لئے 850000 میٹرک ٹن کا انتظام کیا گیا ہے۔ کابینہ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ عجلت میں خریداری نہ کریں، ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کی جائے گی، سٹاک کی مارکیٹ میں فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور اوگرا کو ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے لائسنس کی شرائط کے مطابق 21 دن کا اسٹاک رکھیں۔

وفاقی کابینہ کو ملک میں کوویڈ- 19 کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے کیسز سے متاثرہ مریضوں کی ضروریات پوری کرنے اور ملک میں صحت کی سہولیات کو مستحکم کر نے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں میں ایک ہزار مزید بیڈز،  جو کہ آکسیجن  کی سہولت سے آراستہ ہو ں گے،  اسی ماہ  (جون میں) قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کورونا کے بارے میں معلومات اور سہولیات کی آگاہی کی فراہمی کے لئے ویب سائٹ اور موبائل اپلیکیشن  (آر ایم ایس) سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کو وفاقی دارالحکومت میں واقع ہسپتالوں میں کورونا کی سہولیات کے بارے میں بھی بریف کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں ماہ مختلف ہسپتالوں میں مزید دو سو بیڈز کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

کابینہ کو شوگر انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ایکشن میٹرکس پر وزیرِ اعظم کی منظوری سے عمل درآمد شروع کیا جا چکا ہے۔ اس کارروائی کے تین حصے ہیں۔

پہلا حصہ سزاؤں اور ریکوری سے متعلق ہے۔ اس میں سات مختلف ایکشن ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سبسڈی کے معاملے میں کمیشن نے 2014سے 2019تک کے معاملات کا جائزہ لیا اس عرصے کے دوران 29ارب کی سبسڈی دی گئی تاہم وزیرِ اعظم کی ہدایت پر یہ مسئلہ نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اپنے قانون کے مطابق 1985سے دی جانے والی سبسڈی خصوصاً نوے کی دہائی میں دی گئی سبسڈی کا بھی جائزہ لے گی۔

سیل ٹیکس، انکم ٹیکس  اور بے نامی ٹرانزیکشن کا معاملہ ایف بی آر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جو نوے دنوں میں کاروائی مکمل کرے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کمیشن نے صرف نو ملوں کے معاملات کا جائزہ لیا تھا لیکن اب وزیرِ اعظم کے احکامات کی روشنی میں ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بقیہ 88 ملوں کے معاملات کا بھی جائزہ لے۔

کارٹیلائزیشن کا معاملہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے حوالے کر دیا گیا۔ جو نوے دنوں میں کاروائی مکمل کرے گا۔ قرضے معاف کرانے، بنکوں کے پاس رہن شدہ  اثاثوں کو بیچنے  اور لون ڈیفالٹ کا معاملہ اسٹیٹ بنک کے حوالے کیا گیا ہے جو نوے دنوں میں اپنا کام مکمل کرے گا۔

کارپوریٹ فراڈ کا معاملہ ایف آئی اے  اور ایس ای سی پی کے حوالے کیا گیا ہے۔ برآمدات میں فراڈ اور منی لانڈرنگ کا معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے۔ گنے کی قیمتوں اور متعلقہ صوبائی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ صوبائی حکومتوں کے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔

سفارشات کا دوسرا حصہ ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق ہے۔ اس حوالے سے قوانین میں ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ فارورڈ سیل جیسے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ چینی کی پیداواری قیمت کا تعین اور قیمتوں میں کمی لانے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی پیداواری قیمت کا تعین کرنے اور چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے وزیر برائے صنعت و پیداوار کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اقدامات کی سفارشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی کی سطح پر اقدامات تجویز کرے گی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ شوگر انکوائری کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ حکومت مکمل شفافیت اور عوام کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔  چینی کی قیمت میں ہر صورت کمی لائیں گے اور عوام دیکھے گی کہ حکومت کے سامنے صرف عوام کا مفاد مقدم ہے، یہ پاکستان  اور پاکستانی عوام کی جنگ ہے، جو بھی اس معاملے میں ملوث ہوگا ان کے خلاف ایکشن ضرور ہوگا۔

کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کا بھی نوٹس لیا۔ وزیرِ اعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ نیشنل پرائس  مانیٹرنگ کنٹرول کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے اور اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ کابینہ کو پیش کی جائے۔

سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور فیصلوں پر مقررہ مدت  میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وزارتوں میں  ای فائلنگ اور فائلوں کے ای ٹریکنگ کے نظام کے نفاذ کو تیز کیا جائے۔

اجلاس کو متروکہ وقف املاک کی جائیدادوں کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے اور متروکہ املاک وقف بورڈ کے معاملات کو منظم کرنے کے حوالے سے ٹاسک فورس کی سفارشات  سے متعلق بریف کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ متروکہ وقف املاک کی ملکیت میں 47 ہزار املاک ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ متروکہ املاک کی جائیدادوں کی نشاندہی کے عمل کو تیز کیا جائے اور انکی جیو ٹیگنگ کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 03 جون 2020  کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے اسٹیل مل کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر تفصیلی طور پر غور کیا۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا اصلاحات ایجنڈا ہے۔ کابینہ نے  نوٹ کیا کہ سالہا سال سے غیر فعال ادارے کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مفاد میں اصلاحاتی ایجنڈے کو  مزید آگے بڑھایا جائے۔

سرکاری اداروں میں معیاری افرادی قوت کو یقینی بنانے خصوصا ً اداروں کے سربراہان کے عہدوں کے لئے قابل افراد کو حکومت میں  لانے کے حوالے سے طریقہ کار کے بارے میں ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنی سفارشات پیش کیں جن کو کابینہ نے منظور کیا۔

معاون خصوصی شہزاد ارباب نے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے خصوصاً  اداروں اور  اہداف مقرر کرنے اور ان کے حصول کے لئے پرفارمنس کنٹریکٹ متعارف کرنے کے نظام پر بریفنگ دی۔

کابینہ نے سیکٹر ایف 12اور سیکٹر  جی 12کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کیلئے مختص کرنے کی منظوری دی۔ اس ضمن میں ان سیکٹرز میں زمین حاصل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ ان سیکٹرز میں تعمیرہونے والے گھروں میں پچاس فیصد کوٹہ وفاقی ملازمین کیلئے، 25فیصد اووسیز پاکستانیز جبکہ بقیہ پچیس فیصد پبلک کے لئے مختص کیا جائے گا۔ جی 12 میں مقیم کچی آبادیوں کے مکینوں کے لئے اسی سیکٹر میں کثیرالمنزلہ فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے اور ان کو چھت فراہم کی جائے گی۔

کابینہ نے سوئی ناردن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری دی جبکہ دلشاد علی احمد کی بطور صدر، سی ای او  ایس ایم ای بنک لمیٹڈ تعیناتی کی منظوری ددے دی۔

کابینہ نے ارسا ٹیلی میٹری سسٹم  (جو کہ 2002میں واپڈا کی جانب سے نصب کیا گیا تھا) کو سبوتاژ کرنے کے معاملے کی انکوائری کے لئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکرٹری ہوابازی اور سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار  پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔

کمیٹی ارسا ٹیلی میٹری سسٹم کے سبوتاژ ہونے میں ممبرز ارسا یا کسی دیگر فرد /افراد کے ملوث ہونے کا نوعیت اورحد کا تعین کرے گی اور ورلڈ بنک کے منصوبے کہ جس میں کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنا تھیں اس معاملے ہونے والے بدانتظامی کی وجوہات کا بھی جائزہ لے گی۔ کمیٹی پندرہ دنوں میں اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here