آئی ایم ایف اور حکومت بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے پر متفق ہوگئے

اس سے پہلے آئی ایم ایف نے حکومت کو تنخواہیں اور پنشن نہ بڑھانے کا کہا تھا جسے حکومت نے ماننے سے انکار کردیا تھا، اہم یقین دہانی پر عالمی مالیاتی ادارے نے اس حوالے سے رضامندی دے دی

783

لاہور / اسلام آباد : وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) کے مابین آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے اور بجلی اور گیس کے نرخ موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔

اس سے پہلے آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو آنے والے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ نہ کرنے کا کہا تھا تاہم حکومت کورونا کے پیدہ کردہ حالات اور مہنگائی کے پیش نظر ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف اس یقین دہانی پر تنخواہیں اور پنشنز بڑھانے پر راضی ہوا کہ حکومت مالی خسارے میں اضافہ نہیں ہونے دے گی اور نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

پاکستان کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوگئے

کورونا وائرس کے خلاف پاکستان، اے ڈی بی کے مابین 300 ملین ڈالر کے ہنگامی قرض پر دستخط

بجٹ 2020-21 کیسا ہونا چاہیے ؟ ماہرین نے رائے پیش کردی

اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان ہونے والی تازہ بات چیت میں قرضوں کی شرائط میں 30 ستمبر تک نرمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم اکتوبرکے مہینے سے پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی سے جڑی شرائط پر عمل در آمد کرنا ہوگا۔

اُدھر ملک  کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا ہے کہ موجودہ حالات کے باعث پہلے سے طے کیے گئے اہداف پورے نہیں کیے جاسکے گے۔

اس سے پہلے چھ جون کو آئی ایم ایف کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر گیری رائس کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ اور پاکستانی حکام موجودہ حالات میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے دوسرے ریویو کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ تاکہ پروگرام کے مقاصد پورے ہوسکیں۔

واضح رہے کہ اپریل کے مہینے میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے 1.4 ارب روپے کا ہنگامی قرض دیا گیا تھا۔

اُدھر با خبر ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائے گی تاہم  ٹیکس چوری روکنے کے لیے سخت اقدامات اُٹھائے جائیں گے اور اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو خصوصی اختیارات دیے جائیں گے۔

 

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here