تمباکو انڈسٹری کی بجٹ میں ٹیکس چھوٹ لینے کیلئے کوششیں تیز

308

لاہور: عالمی وبا کورونا وائرس سے دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی معاشی بحران کا سامنا ہے، ایسے میں تمباکو انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2020-2021 کے قریب آتے ہی ٹیکس مراعات لینے کے لیے لابنگ کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

آل پاکستان سگریٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے مطابق انہوں نے وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کی چئیرپرسن نوشین جاوید امجد کو ٹیکسوں سے متعلق ایک خط لکھا ہے تاہم ایف بی آر کی جانب سے مثبت جواب نہیں دیا گیا، اے پی سی ایم اے کے سیکرٹری اشفاق الرحمان نے 21 مئی کو خط بھیجا تھا۔

رپورٹس کے مطابق خط میں اے پی سی ایم اے نے سول سوسائٹی، ملٹی نیشنل تمباکو کمپنیوں، قومی تمباکو کمپنیوں، وزارتِ صحت، وزارتِ خزانہ اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے ایف بی آر کو کھلے عام بات چیت کی پیشکش کی ہے۔

تاہم، ایف بی آر میں سرکاری ذرائع نے اے پی سی ایم اے کی جانب سے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ  بورڈ ایک مخصوص لابی کے زیر اثر ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے عالمی کنونشن پر عملدرآمد سست روی کا شکار

تاریخ میں پہلی مرتبہ سگریٹ کی بیرونی دنیا کو فروخت سے پاکستان نے 6.2 ملین ڈالر کما لیے

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ذریعے ملک بھر کی صنعتوں اور دیگر چیمبرز آف کامرس کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنسز کے ذریعے مشاورتی اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں سے تمام صنعتوں کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا کافی موقع ملا اور ایف بی آر نے ان کی بات کھلے دل کے ساتھ سنی۔

دوسری جانب ایف بی آر کے سابق افسر اکرام غنی، جو پاکستان ٹوبیکو بورڈ (پی ٹی بی) کے سابق چئیرمین بھی رہے، نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ ایف بی آر نے تمباکو سیکٹر خصوصاََ مقامی کاشتکاروں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا ہے۔ تمباکو سیکٹر پاکستان میں واحد شعبہ تھا جس سے ایڈوانس ٹیکس وصول کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 2018ء میں ایف بی آر نے گرین لیف تھریشنگ (جی ایل ٹی) یونٹس پر ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) 10 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 300 روپے فی کلو کر دی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کاشتکاروں سے تمباکو کی خریداری میں کمی واقع ہوئی اور تمباکو کی فصل اضافی ہوئی جس کے بعد ٹوبیکو بورڈ نے سگریٹ ساز کمپنیوں کو زائد فصل خریدنے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیکس ہدف پورا کرنے کیلئے ایف بی آر معجزے کا منتظر، جون تک 372 ارب جمع کرنے ہونگے

سگریٹ کا استعمال کم کرنے کے لیے بجٹ میں بھاری ٹیکس لگانے کی تجویز

اکرام غنی نے بتایا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 30 گنا بڑھانے کے باوجود مطولبہ آمدن حاصل نہ ہو سکی  اور تمباکو کی تجارت پر منفی اثر پڑا۔

گزشتہ سال تمباکو کے کاشتکاروں، برآمدکنندگان، سرمایہ کاروں اور ڈیلرز نے ایڈوانس ایف ای ڈی میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد ایف بی آر کی جانب سے اضافہ واپس لے لیا گیا۔

تاہم رواں سال دوبارہ ایف بی آر مبینہ طور پر ایڈوانس ایف ای ڈی میں 500 روپے فی کلو کے حساب سے اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پاکستان ٹوبیکو بورڈ وزارت تجارت کے تحت کام کرتا ہے اور تمباکو کی پیداوار، ترقی اور برآمدات کا ذمہ دار ہے، پی ٹی بی نے بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here