آئی ایم ایف پاکستان کا سالانہ ٹیکس ہدف کم کرنے پر آمادہ، 4.9 کھرب روپے مقرر کر دیا

وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی 30 روپے فی لٹر، جنرل سیلز ٹیکس 17 فیصد رکھے جانے کا امکان، 489 ارب روپے آمدن ہو گی

73

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سالانہ محصولات کا ہدف کم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی جس کے بعد آئندہ بجٹ میں یہ ہدف 4 ہزار 900 ارب روپے (4.9 کھرب روپے) رکھا جائے گا۔

اس سے قبل آئی ایم ایف نے ایف بی آر کیلئے سالانہ ٹیکس کا ہدف 5 ہزار 101 ارب روپے مقرر کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی 30 روپے فی لٹر مقرر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں پورا سال تبدیلی نہیں ہو گی اور یوں حکومت کو ٹیکس کی مد میں 489 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

جاری مالی سال کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی سے 250 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا تھا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران بھی پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) 17 فیصد رکھا جائے گا۔

ایف بی آر کے ٹیکسز کے علاوہ حکومت کو دیگر محصولات کی مد میں 500 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ذرائع سے ایک ہزار 150 ارب روپے آمدنی کی توقع ہے۔

 یوں سب ملا کر حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران 6 ہزار 500 ارب روپے مجموعی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے جس میں سے تین ہزار ارب روپے صوبوں کو چلے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے پاس تین ہزار 500 ارب روپے باقی بچیں گے جس سے معاملات چلانے ہوں گے۔

 اگرچہ ایف بی آر کے حکام آئی ایم ایف کا مقرر کردہ چار ہزار 900 ارب روپے کا ہدف پورا کرنے کیلئے پراعتماد ہیں جو گزشتہ مالی سال کی نسبت 28 فیصد زیادہ ہوگا

تاہم وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق یہ ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ جاری مالی سال کے دوران ایف بی آر اب تک تین ہزار 908 ارب روپے محصولات کی مد میں اکٹھے کر سکا ہے، حالانکہ سالانہ ہدف میں بار بار کمی کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here