وزیر اعظم کی پی آئی اے میں اصلاحات اور تنظیم نو کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

قومی ایئر لائن کو تقریباً چھ ارب روپے ماہانہ کے خسارے کا سامنا، ساڑھے 14 ہزار ملازمین کی محض تنخواہوں پر ہونے والے اخراجات 24 ارب روپے سالانہ ہیں: سی ای او ارشد ملک کی بریفنگ 

149

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ پی آئی اے کی ملکیت میں موجود ملکی و غیر ملکی اثاثوں کے صاف اور مکمل طور پر شفاف طریقہ کار کے ذریعے بہترین استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ یہ اثاثے عوام پر مزید بوجھ بننے کی بجائے ادارے کے لئے مالی وسائل پیدا کر سکیں۔

یہ بات انہوں نے پیر کو قومی ایئر لائن میں اصلاحات و تنظیم نو کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان، وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، مشیر اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، چیف ایگزیکٹو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ائیر مارشل ارشد ملک و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

سی ای او پی آئی اے نے وزیرِاعظم کو حالیہ پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات، شہید افراد کا جسد خاکی لواحقین کے حوالے کرنے، متاثرین کو معاوضے کی ادائیگیوں میں اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔

قومی ائیر لائن کی تنظیم نو اور اصلاحات کا مفصل روڈ میپ اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے ٹائم لائنز وزیرِ اعظم کو پیش کی گئیں۔ سی ای او پی آئی اے نے بتایا کہ قومی ایئر لائن کو اس وقت تقریباً چھ ارب روپے ماہانہ کے خسارے کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ساڑھے 14 ہزار ملازمین کی محض تنخواہوں پر ہونے والے اخراجات 24 ارب روپے سالانہ ہیں۔ گذشتہ 12 سالوں میں ادارے کے 10 سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں۔ موجودہ چیف ایگزیکٹو اپنی 16 ماہ کے عرصہ تعیناتی کے دوران تقریباً تین ماہ عدالتی کیسز کی وجہ سے کام کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر ادارے میں اصلاحات کا عمل شدید متاثر ہوتا رہا ہے۔ ایئر مارشل ارشد ملک نے وزیرِ اعظم کو قومی ائیر لائن کی تنظیم نو ، ادارے کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، ادارے کے اثاثہ جات کو بہتر اور موثر طریقے سے بروئے کار لانے اور دیگر متعلقہ معاملات کے حوالے سے ترتیب دی جانے والی حکمت عملی پر تفصیلی بریف کیا۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات کی وجہ سے دنیا بھر کی ائیر لائن انڈسٹری متاثر ہوئی ہے اور اس حوالے سے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملکی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ سرکاری اداروں کی جانب سے اربوں روپے کے ماہانہ نقصان کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ماہانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا نقصان کرنے والی قومی ائیر لائن میں اصلاحات اور تنظیم نو کا عمل تیز کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ادارے کے اخراجات میں کمی لانے، ادارے کی آمدن اور مالی وسائل بڑھانے اور طیاروں (فلیٹ) کی اپ گریڈیشن پر خاص طور پر توجہ دی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here