بول ٹی وی واقعی قصور وار ہے یا میڈیا کی سیاست کا نشانہ بن رہا ہے ؟

لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کا یہ چینل اپنے آغاز سے ہی تنازعات میں گھرا ہوا ہے، اسکے دیگر چینلز کے ساتھ روابط ٹھیک ہیں اور نہ ہی پیمرا اور پی بی اے کیساتھ، اشتہاری کمپنیاں بھی اسے بزنس دینے سے کتراتی ہیں ، حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں اس پر 16 ملین ڈالر کے ہرجانے کے تین مقدمات دائر کیے گئے ہیں

675

کراچی : الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی دفعہ 22 (۱) کی خلاف ورزی پر لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف سندھ ہائی  کورٹ میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر ہرجانے کے تین مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ بول ٹی وی اور ڈپلومہ دینے والے ایک ادارے کی پیرنٹ کمپنی ہے اور اس کے خلاف یہ تین مقدمات پاکستان کی اشتہاری صنعت کی دو طاقت ور ترین شخصیات اور ایک بڑی اشتہاری کمپنی کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔

یہ مقدمات  بول ٹی وی کی جانب سے 3 فروری، 5 مارچ  اور 20 مئی کو چلائے جانے والے کونٹینٹ کی وجہ سے دائر کئے گئے ہیں۔

 یہ مقدمات گروپ ایم کے سابق سی ای او فواد حسین، Z2C کے چئیرمین ریحان علی مرچنٹ اور بلٹز ایڈورٹائزنگ کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں اور یہ تینوں مدعی لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ  کی جانب سے  پہنچائے جانے والے مبینہ نقصان کی مد میں اس سےبالترتیب 50 کروڑ، 1.5 ارب اور 65 کروڑ روپے کے دعوے دار ہیں، مجموعی طور پر یہ رقم ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر بنتی ہے۔

تاہم دعوی کیے گئے نقصانات کی بھرپائی سے متعلق بیرسٹر فہد سلطان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں یہ روایت پائی جاتی ہے کہ ہرجانے کا دعوی ہونے والے نقصان سے زیادہ کیا جاتا ہے اس لیے یہ تو ممکن ہے کہ عدالت لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کو ہرجانہ بھرنے کا حکم دے مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ ہرجانہ اتنا ہی ہو جتنا مانگا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بول ٹی وی نے تنازع کی وجہ بننے والا کونٹینٹ بغیراجازت نشر کیا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) کیساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے گروپ ایم، Z2C اور بلٹز ایڈورٹائزنگ بول ٹی وی کو اشتہارات نہیں دیتے، اگرچہ بول کی جانب سے اس سلسلے میں گزشتہ دو برسوں سے کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک میڈیا آڈیٹر نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ ’کنتار‘ بول ٹی وی کی ریٹنگز جاری نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ چینل کو اشتہاری ایجنسیوں کی جانب سے کاروبار نہیں ملتا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ کنتار (Kantar) کی جانب سے ریٹبنگز جاری نہ کیے جانے کے باعث بول ٹی وی کے اقدام کا کوئی جواز ہی نہیں ہے کیونکہ میڈیا پلان کا حصہ بننے کے لیے ریٹنگز کا ہونا ضروری ہے۔

 میڈیا پلانرز کا پرافٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا  کہ بول ٹی وی اور ڈپلومہ دینے والے ادارے کے درمیان ابھی بھی تعلق قائم ہے، اس کے علاوہ بول ٹی وی مخلتف سماجی، مذہبی اور ثقافتی معاملات پر پیمرا کی ہدایات کی اکثر خلاف ورزی کرتا رہتا ہے جو اشتہاری صنعت سے وابستہ افراد کے لیے پریشانی کا باعث ہے اور اسی وجہ سے مقامی اور غیر ملکی ادارے اس چینل کو اشتہار دینے سے ہچکچاتے ہیں۔

مزید برآں 2007ء میں پیمرا کی جانب سے بول ٹی وی اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد دوسرے میڈیا ہاؤسز نے پی بی اے کے ایما پر بول اور لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف الزامات پر مبنی اشتہارت  اپنے اپنے اخبارات میں چھاپے تھے۔

رواں سال کے اوائل میں بھی بول ٹی وی پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا جا چکا ہے کیونکہ اس کے ایک میزبان نے اپنے شو میں شریک خواتین کے ساتھ فحش اور نازیبا گفتگو کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شو پر پابندی لگانے کے علاوہ  ادارے کو مذکورہ میزبان کو مزید کوئی کردار دینے سے منع کر دیا تھا۔

اشتہار دینے والے اداروں کا کہنا ہے کہ برینڈ سیفٹی سٹینڈرڈز کی بار بار خلاف ورزی، اشتہاری صنعت کی تنظیم کے ساتھ تعاون سے انکار اور پیمرا کی ہدایات سے انحراف کی وجہ سے میڈیا پلینرز لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے تمام چینلز کو میڈیا شیڈول سے باہر رکھنے پر مجبور ہیں۔

میڈیا ماہرین کے مطابق سب سے پہلے تو بول کو ’کنتار‘ کی جانب سے ریٹنگ کی ضرروت ہے جس کا سافٹ وئیر میڈیا لوجک استعمال کرتا ہے۔ جیو، اے آر وائی اور ہم ٹی وی کے اشتہاری صنعت کے ساتھ دہائیوں پر مبنی مضبوط تعلقات کی بناء پر ماہرین کا ماننا ہے کہ ان تین بڑے چینلز کی مہربانی کے بغیر بول کے لیے اشتہاری صنعت کا حصہ بننا نا ممکن ہے۔

 بول اور بول انٹرٹینمنٹ کو اشتہارت کا اہل بنانے کی کوشش 

ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیا لوجک کی جانب سے کم ریٹنگز مسترد کرنے کے بعد لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ نے 2007ء کے وسط میں MediaVoir کے نام سے اپنی خود کی ریٹنگ ایجنسی بنائی اور یہ دعوٰی کیا کہ یہ ایجنسی میڈیا ٹریکرز، میڈیا لوجک اور میڈیا بینک کی نسبت زیادہ بہتر ریٹنگ جاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پیمرا کے مطابق میڈیا لوجک، بریو انٹرنیشنل ، دی میڈیا ٹریکرز اور دن انڈسٹریز کی طرح  MediaVoir بھی اس کی منظور شدہ ریٹنگ ایجنسی ہے۔

ریٹگ ایجنسی کی پیمرا سے منظوری کے لیے ضروری ہے کہ ایجنسی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کوئی میڈیا لائسنس نہ رکھتی ہو مگر MediaVoir کے معاملے میں قانون کی کھلی خلاف ورزی ہوئی ہے کیونکہ اس کا تعلق لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ سے ہے۔

لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ اور MediaVoir کے درمیان تعلق کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ بول ٹی وی کے شوز کو ریٹنگز میں کئی مرتبہ نمایاں کیا گیا مزید برآں لنکڈ اِن پر موجود تین پروفائلز میں MediaVoir کیساتھ  بول میں کام کرنے کا بھی ذکر ہے۔

  مئی 2017ء میں اس ایجنسی نے جو ریٹنگ جاری کی اس میں 0.61 پوائنٹس کیساتھ سماء ٹی وی کو پانچویں، جیو نیوز کو 0.87 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے، 1.03 پوائنٹس کے ساتھ دنیا نیوز کو تیسرے، 1.16 پوائنٹس کیساتھ اے آر وائی نیوز کو دوسرے اور 2.49 پوائنٹس کیساتھ بول کو پہلے نمبر پر دکھایا گیا۔

تصویر کا دوسرا رُخ 

2015ء میں اپنی لانچ کے بعد بول ٹی وی نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹی وی چینلز کا ایک گروہ اس کے خلاف سازش کررہا ہے کیونکہ اس نے دیگر چینلز کے ملازمین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب راغب کرلیا ہے۔ مذکورہ پریس ریلیز میں بول نے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ گروپ کا نام لے کر الزام لگایا کہ وہ اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے بول نے جنگ گروپ میں چھپنے والے اداریوں اور Intellectual Property Organization کی جانب سے انڈی پینڈینٹ میڈیا کارپوریشن، جو کہ جنگ گروپ کی پیرنٹ کمپنی ہے، کی جانب سے بول کے ٹریڈ مارک کی ملکیت کے دعوے کو مسترد کرنے کا حوالہ دیا۔ انٹلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ انڈی پینڈینٹ میڈیا کارپوریشن کی جانب سے جمع کروایا گیا سرٹیفکیٹ آف رجسٹریشن غیر دستخط شدہ اور جعلی تھا۔

ان چیزوں کا حوالہ دیتے ہوئے بول کا کہنا تھا کہ انڈی پینڈینٹ میڈیا کارپوریشن اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے اشتہاری اداروں کو لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کو اشتہار دینے سے روکنا چاہتی ہے۔

اس کے علاوہ بول نے پی بی اے اور پیمرا کی جانب سے بھی اس کی مخالفت کو انڈی پینڈینٹ میڈیا کارپوریشن کیساتھ گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دیا۔

ایک سینئر میڈیا کارکن کا کہنا تھا کہ کسی پرائیویٹ ایجنسی، میڈیا بائنگ ہاؤس یا کسی دوسرے غیر سرکاری ادارے کو مارکیٹ کے استحصال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور کسی بھی میڈیا آرگنائزیشن کے خلاف کاروائی کا اختیار صرف پیمرا کو ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پیمرا نے بول کو کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے تو کسی اشتہاری ایجنسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کو اشتہارات دینے پر پابندی لگائے ؟

انکا مزید کہنا تھا کہ کمزور بنیادوں پر اشتہار روکنا ایک غلط اقدام ہے جسے انڈسٹری سے تعلق نہ رکھنے والے افراد بھی  میڈیا کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

ٹی وی چینلز کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات 

پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر فہد سلطان کا کہنا تھا کہ ہتک عزت کے مقدمات دو طرح کے ہوتے ہیں ایک کریمینل جو کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 499 کے تحت دائر کیے جاتے ہیں اور انکی دوسری قسم سول ہوتی ہے جو کہ ہتک عزت آرڈیننس کے تحت دائر کیے جاتے ہیں۔

کریمینل ہتک عزت کے مقدمات میں مدعی کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ سول مقدمات میں ایک چھوٹی سی بات بھی کافی ہوتی ہے بشرطیکہ وہ ہتک پر مبنی ہو اور شائع ہوئی ہو۔

ایسی صورت میں مدعا علیہ کے پاس اپنے دفاع کی کچھ صورتیں ہیں اور وہ یہ کہ یا تو اس چیز سے انکار کردیا جائے کہ کسی کو بدنام کیا گیا ہے یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو کچ لکھا گیا یا نشر کیا گیا وہ سچ ہے اور اس سلسلے میں آزادی اظہار رائے بھی کافی مددگار ہوسکتی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق اب تک ٹی وی چینلز کے خلاف ہتک عزت کے کئی مقدمات دائرکیے جاچکے ہیں مگر کسی کا بھی کوئی واضح نتیجہ نہیں نکل سکا۔

تازہ کیس روشان علی کانسورو اور ولی اللہ بُھٹو کی جانب سے ابتک نیوز کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔

ابتک نیوز نے اپنی ایک خبر میں کلچرل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل منظور کانسورو اور انکے بھائی روشان علی کانسورو پرٹھیکیدار ولی اللہ بُھٹو کی مدد سے  منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک اربوں روپے کی جائدادیں بنانے کا الزام لگایا تھا۔

بیرسٹر سلطان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کی اپنی لیگل ٹیمیں پیمرا کے نوٹسز، ٹریڈ مارک کی ملکیت کے نوٹسز اور ہتک عزت کے دعوؤں سے نمٹنے میں مصروف عمل رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے زیادہ تر مقدمات منطقی انجام کو کم ہی پہنچتے ہیں، اگر مدعا علیہ کو لگے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے تو وہ معاملے پر عدالت میں لڑنے کے بجائے اسے باہر ہی حل کرلیتے ہیں تاکہ ان کی شہرت کو اس مقدمے سے کوئی زک نہ پہنچے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اس بات کی ذمہ داری مدعی  پر ہوتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ اسے مالی نقصان پہنچا ہے جبکہ شہرت کو پہنچنے والے نقصان کے مالی حجم کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here