کورونا وائرس کے باعث دودھ کی سپلائی چین متاثر، ڈیری انڈسٹری کی مشکلات میں اضافہ

417

لاہور: پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کے چئیرمین سلیمان مانو نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب ڈیری انڈسٹری دیوالیے کے دہانے پر پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سپلائی چین کا متاثر ہونا ہے۔ 

پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سلیمان مانو نے کہا کہ انڈسٹری کو پہلے ہی مالی عدم تحفظ، غیرتربیت یافتہ افرادی قوت، غیرمنظم بازار، خراب پیداواری بنیاد، دودھ کا پیداواری موسم اور کوالٹی اشورنس کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ڈیری انڈسٹری پاکستان کی معیشت کا ایک اہم جزو ہے جو جی ڈی پی کے اعتبار سے نیشنل اکانومی میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ زرعی سیکٹر پاکستان کے جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے جس میں زراعت کے شعبے میں لائیوسٹاک اور ڈیری کے ذیلی شعبے 60 فیصد ویلیو کا اضافہ کررہے ہیں، لائیوسٹاک اور ڈیری سیکٹر پاکستان کے جی ڈی پی میں 11 فیصد حصہ شامل کرتے ہیں۔

سلیمان نے کہا کہ “لائیوسٹاک اور ڈیری سیکٹر ایک اہم روزگار کا ذریعہ ہے جو 35 لاکھ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے جس میں دیہاتی خواتین بھی شامل ہیں، 34 فیصد کے قریب خواتین کا روزگار لائیوسٹاک سے وابسطہ ہے”۔

بنیادی مسائل:

چئیرمین پی ڈی اے نے کہا کہ لائیوسٹاک مصنوعات فائدہ مند کاروبار ہونے کے باوجود دودھ کے رجحانات کم سے کم کمرشلائزڈ انٹرپرائز ہوتے جارہے ہیں، ڈیری جانوروں کی دودھ کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث پاکستان میں ڈیری فارمنگ ناقص خیال کی جانے لگی ہے۔

انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ترقی یافتہ دنیا میں 35 لٹر کے مقابلے میں مقامی گائے اور بھینسیں روزانہ اوسطََ پانچ لٹر دودھ دیتی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایک ڈیری جانور دوسرے ممالک کے مقابلے میں چھ سے آٹھ گنا کم دودھ پیدا کرتا ہے”۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیری انڈسٹری میں غیرمنظم سپلائرز کا قبضہ ہے، “جن کے پاس دودھ ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری آلات نہیں ہیں”، اور عام طور پر ضرورت سے زیادہ دودھ کو غیرمعیاری شکل میں ضائع یا بیچ دیتے ہیں۔

چئیرمین پی ڈے اے نے کہا کہ پاکستان میں دودھ کی کُل پیداوار کا 20 فیصد حصہ ذخیرہ کرنے، نقل و حمل، بچھڑوں اور ٹھنڈک کی مناسب سہولیات کے فقدان کے باعث ضائع ہو جاتا ہے۔ “دودھ کی سپلائی کم ہونے کی صورت میں یہ غیرمنظم دودھ فروخت کرنے والے دودھ کی مقدار میں اضافہ کرنے کے لیے پانی اور دیگر طریقے سے آمیزش کرتے ہیں جس سے کھلے دودھ کا استعمال کرنے والے شہریوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے”۔

سلیمان مانو نے کہا کہ پاکستان دودھ تیار کرنے والے صفِ اول کے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں 2018-19 میں اندازََ سالانہ 60 ملین ٹن دودھ کی پیداوار ہوئی ہے، ملک کے چھ فیصد دودھ کی پیداوار کے 25 پلانٹس نجی شعبے کے تحت پروسیسنگ کررہے ہیں اور تقریباََ سالانہ 3.5ملین ٹن ڈیری پروسیسڈ مصنوعات پیدا کررہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ویٹرینری اینڈ اینیمل سائنسز کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کے مطابق پاکستان میں 90 سے 95 فیصد لوگ کھلے دودھ کا استعمال کرتے ہیں۔

کھلا دودھ بمقابلہ پیک دودھ:

چئیرمین پی ڈی اے نے کہا کہ بڑے پیمانے پر اس یقین کے برخلاف کھلا دودھ ذائقے کے اعتبار سے قدرتی اور تازہ ہے لیکن اس کا رجحان انتہائی غیر صحت بخش ہے۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر (پشاور) کی جانب سے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ڈیری فارموں میں گندے مکانات کے نظام، دودھ حاصل کرنے کے غیرمعیاری طریقوں، گندے برتنوں، نقل و حمل اور پانی میں ملاوٹ کی وجہ سے کھلا دودھ مختلف بیماریوں کا ذریعہ ہے”۔

انہوں نے کہا کہ “کچے دودھ سے خطرناک بیکٹیریا لے جا سکتے ہیں جو معدے سے متعلق دیگر بیماریوں کے علاوہ دودھ پیدا ہونے والی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں”۔ اس کے علاوہ دودھ اکٹھا کرنے کے دوران کوئی سائنسی طریقہ کار، ذخیرہ اور نقل و حمل پر عمل نہیں کیا جاتا”۔

جیسا کہ کھلے دودھ میں ملاوٹ بغیر کسی جانچ پڑتال کے جاری ہے، کھلا دودھ کم سے کم غذائیت کی قیمت کے ساتھ سب سے زیادہ غیر محفوظ مشروب بن کر سامنے آیا ہے اور اسے صحت کے لیے صرف نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

سربراہ پی ڈی اے نے کہا کہ معیاری دودھ کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی سطح کے بہترین طریقہ کار کے عمل کو یقینی بنانا ہو گا، کھلا دودھ بیچنے والوں کو زبردستی خراب طریقہ کار سے بچنے اور معیاری سپلائی چین کے طریقہ کار کو یقینی بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here