مئی میں سیمنٹ کی فروخت میں 37 فیصد کمی

76

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کیلئے اعلان کردہ پیکیج کے مثبت نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے جس کی وجہ سیمنٹ کی مقامی پیداوار میں گزشتہ ماہ کے دوران 37.63 فیصد کمی آئی۔

مئی 2020ء میں پاکستان میں سیمنٹ بنانے والے کارخانوں کی پیداوار 2.27 ملین ٹن رہی جو مئی 2019ء میں سیمنٹ کی پیداوار 3.64 ملین ٹن کے مقابلے میں 37 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔

اس دوران ملکی سیمنٹ کی برآمدات 2019ء کے مقابلے میں 24.81 فیصد کم ہوئیں جو 0.483 ملین ٹن سے کم ہو کر مئی 2020ء میں 0.363 ملین ٹن رہ گئیں۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سیمنٹ کی برآمدات مئی 2020ء اور مقامی کھپت 2.63 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 4.12 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جس میں 36.12 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

 سیمنٹ کی فروخت میں کمی بنیادی طور پر کورونا وائرس، ماہِ  رمضان اور عید کی چھٹیوں کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی کی وجہ سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے:

سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں 7 فیصد، برآمدات میں 26 فیصد اضافہ 

پیداواری لاگت، ٹیکسوں میں اضافے سے سیمنٹ مینوفیکچررز پریشان، تیسری سہ ماہی میں بھاری خسارے کا سامنا

شمالی علاقوں میں سیمنٹ کی پیداوار مئی 2019ء کی 3.05 ملین ٹن کے مقابلے میں 2.001 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جبکہ ملک کے جنوبی علاقوں میں مئی 2019ء میں سیمنٹ کی کھپت 0.589 ملین ٹن سے کم ہو کر 0.269 ملین ٹن رہیں۔

اسی طرح زیرِ جائزہ عرصے کے دوران شمالی علاقوں سے سیمنٹ کی برآمدات 7520 ٹن گزشتہ سال مئی کے مقابلے میں 0.164 ملین ٹن دیکھی گئیں۔ سیمنٹ برآمدات کے مرکز سمجھے جانے والے جنوبی علاقوں کی برآمدات میں مئی 2019 میں 0.319 ملین ٹن سے 0.356 ملین ٹن کامعمولی اضافہ ہوا تھا۔

مالی سال 2020 کے پہلے 11 ماہ کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت 43.189 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 43.327 ملین ٹن تھی جس میں 0.32 فیصد کی معمولی کمی ہوئی ہے۔ زیرِجائزہ عرصے کے دوران گھریلو کھپت میں گزشتہ سال کی 37.14 ملین ٹن کے مقابلے میں رواں سال 36.13 ملین ٹن یعنی 2.72 فیصد کمی آئی ہے۔

دوسری جانب سیمنٹ کی برآمدات میں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران 14.07 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال 6.188 ملین ٹن سے بڑھ کر زیرجائزہ عرصے کے دوران 7.059 ملین ٹن رہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here