جرمنی میں بے روزگاری کی شرح 6 فیصد، لفتھانسا ایئر کو 2.1 ارب یورو خسارہ، ملازمین کو فارغ کرنے کا عندیہ

166

برلن، فرینکفرٹ: جرمنی میں کام کے دورانیے میں مئی کے دوران کمی ہوئی ہے جس کی وجہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث عملی اوقات میں کمی کے حکومتی احکامات ہیں۔

جرمنی کے قومی ادارہ برائے محنت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 11.7 ملین (ایک کروڑ 17 لاکھ) افراد  کو  کام  کے اوقات میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، اس کی وجہ کورونا وائرس کے باعث حکومت کی مارچ سے جاری قلیل عملی دورانیے کی سکیم ہے۔

لاک ڈاؤن کے باعث بیروز گار افراد کی تعداد مئی کے دوران بڑھ کر 6.3  فیصد رہی جو اپریل کے دوران 5.8  فیصد پر رہی تھی۔ کورونا وائرس سے قبل جرمنی میں بیروزگاری کی شرح  پانچ فیصد کے قریب مستحکم تھی۔

دوسری جانب جرمنی کی سب سے بڑی ایئرلائن لفتھانسا کو پہلی سہ ماہی کے دوران  2.1 ارب یورو(2.3   ارب ڈالر) خسارہ ہوا ہے جس کی وجہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں تعطل ہے۔

ایئرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کی کاروباری سرگرمیاں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث بری طرح متاثر ہوئیں اور اکثر طیارے گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

لفتھانسا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اور اس کے نتیجے میں بھاری خسارے کے بعد  اخراجات میں کمی کرنے کے لیے اب ایئرلائن کی ری سٹرکچرنگ پر غور کیا جارہا ہے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here