موسمیاتی تبدیلیوں کا وار، خیبر پختونخواہ میں گندم کی پیداوارمیں کمی، غذائی بحران کا خدشہ

ٹڈی دل کے حملے، بے موسمی بارشوں اور ژالہ باری سے گندم کی فصل بری طرح متاثر، صوبے میں رواں برس پیداوار کا اندازہ 1.35 ملین ٹن لگایا گیا تھا جو کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ممکن نہیں رہا

581

پشاور : موسمیاتی تبدیلیوں نے خیبر پختونخواہ میں  فصلوں کی پیدوار پر اپنا اثر دکھانا شروع کردیا

تفصیلات کے مطابق غیر متوقع اور بے موسمی بارشوں اور ژالہ باری کے باعث صوبے میں گندم کی پیداوار 30 فیصد کم ہوئی ہے جس کے نتیجےمیں غذائی بحران کے جنم لینے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کے پی کے ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل عابد کمال کا کہنا تھا کہ رواں برس صوبے میں گندم کی پیداوار کا اندازہ 1.35 ملین ٹن لگایا گیا تھا مگر موسمی اثرات کےباعث یہ پیداوار 1.25 ملین ٹن ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

رواں برس گندم خریداری کا ہدف پورا نہ ہوپانے کا امکان

مسابقتی کمیشن پاکستان کی آن لائن کاروبار کے قواعد و ضوابط پر تیاریاں

نیب نے آٹا چینی سکینڈل کی تحقیقات شروع کردیں

ادھر وفاقی وزارت خوراک نے رواں برس ملک میں گندم کی پیداوار کا اندازہ 27 ملین ٹن لگایا تھا تاہم ٹڈی دل کے حملے، خراب موسمی حالات اور بے وقت کی بارشوں نے گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے گندم کی کل پیداوار 25 ملین ٹن ہونے کی اُمید ہے۔

فلور ملز ایسوی ایشن کے چئیرمین حاجی اقبال کا صورتحال بارے کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے گندم کی غیر روایتی انداز اور غیر ضروری طور پر ہنگامی خریداری نے معاملہ خراب کیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ رواں برس خیبر پختونخواہ میں گندم کی پیداوار میں پچاس فیصد کمی آئی ہے جس سے آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے خیبر پختون خواہ حکومت کے 1.3 ملین ٹن  گندم کی پیداوار کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 4.5 ملین ٹن گندم پیدا ہوتی تھی مگر اس برس پچاس فیصد کمی کے باعث کسان تمام گندم اپنے پاس رکھیں گے اور پاسکو کے خریدنے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

اس وقت صوبے کی گندم کی ضرورت 4 سے 4.5 ملین ٹن ہے۔

انکا مزید بتانا تھا کہ فلور مل مالکان کو حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ صوبہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے گندم درآمد کرے گا کیونکہ پنجاب نے گندم کی فراہمی پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here