آئی ایم ایف کی کورونا سے متاثرہ چلی کیلئے 24 ارب ڈالر قرض کی منظوری

84

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے چلی کے لیے 24  ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد کورونا وائرس سے متاثرہ ملک کو وباء سے نمٹنے کے لیے اقدامات میں مدد دینا ہے، یہ رقم دو سال کے عرصے میں ادا کی جائے گی۔

یہ منظوری آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی سربراہی میں گزشتہ روز ہونے والے ایک اجلاس میں دی گئی۔ ایک روز قبل جنوبی امریکا ہی سے تعلق رکھنے والے ملک پیرو کے لیے بھی 11  ارب ڈالر کے دو سالہ منصوبے کی منظوری دی گئی تھی۔

چلی کے لیے قرض کی منظوری کے موقع پر سربراہ آئی ایم ایف نے کہا کہ لچکدار کریڈٹ لائن ایک قابل تجدید فنڈنگ میکانزم ہے جو مضبوط اقتصادی پالیسی ٹریک ریکارڈ رکھنے والے ممالک کو عطا کیا جاتا ہے اور چلی میکسیکو، کولمبیا اور پیرو سمیت یہ لائن حاصل کرنے والا پانچوں ملک ہے۔

انھوں نے چلی کی مضبوط بنیاد، حکمت عملی اور معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد کے ریکارڈ کی تعریف کی جس نے ملک کو اب تک کے معاشی جھٹکوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ چلی کی کھلی معیشت کو کورونا وائرس کے باعث کافی بیرونی خطرات لاحق ہیں جن میں اس کی مصنوعات کی عالمی طلب اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی شامل ہیں جن سے دنیا بھر میں فنانس کی صورتحال مشکل رخ اختیار کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ممالک کو اس وبائی مرض (کورونا وائرس) جس سے دنیا کو معاشی سست روی کا سامنا کرنا پڑے گا، سے نمٹنے کے لیے نئے فنانسنگ ٹولز کا ایک سلسلہ شروع کرتے ہوئے قرضوں کی فراہمی میں تیزی لائی ہے۔

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ چلی کریڈٹ لائن کو احتیاط اور عارضی مدد کے طور پر لے رہا ہے اور 24  ماہ کے عرصے میں موجودہ ماحول سے مکمل طور پر نکلنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اسے مارکیٹ میں اپنا اعتماد بڑھانے کے معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیرو بھی اس پروگرام کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے اور بحران کے خاتمے پر اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اقدامات پر غور کرے گا اور اسے لچکدار کریڈٹ لائن کے ذریعے فراہم کردہ انشورنس کی ضرورت بھی نہیں رہے گی، لیما کی مضبوط پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک  نے اسے متاثر کن معاشی نتائج کو حاصل کرنے اور خطرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس غیر معمولی چیلنج ہے جو پیرو کی معیشت کو کساد بازاری کی طرف لے جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here