کورونا وائرس، پاکستانی آم کی فروخت میں 50 فیصد، ایکسپورٹ میں 40 فیصد کمی کا خدشہ

سیاحت، ہوٹلنگ اور شاپنگ سینٹرز بند ہونے سے آم کی طلب کم، محض 80 ہزار ٹن برآمد کا ہدف، ائیرلائنز نے کرایہ 200 فیصد بڑھا دیا، حکومت سپورٹ فراہم کرے: پاکستان فروٹ ویجیٹیبل ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن

156

کراچی: کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی بحران نے دنیا بھر میں برآمدات کو بھی شدید متاثر کیا ہے اور پاکستان سے پھلوں، سبزیوں، ٹیکسٹائل، لیدر اور دیگر مصنوعات کی ایکسپورٹ میں کمی آ گئی ہے۔

پاکستان میں اس وقت پھلوں کے بادشاہ آم کی ایکسپورٹ تیار ہے لیکن کورونا آم کی ایکسپورٹ کو بھی متاثڑ کر رہا ہے البتہ پاکستانی مارکیٹ میں مختلف اقسام کے آم فروخت کیلئے پیش کر دیئے گئے ہیں۔

رواں سیزن میں ماہ رمضان کے اختتام پر سندھڑی، لنگڑا اور دیسی آم کارپٹ سے پکا کر فروخت کئے گئے تھے لیکن بے ذائقہ ہونے کی وجہ سے خریداروں کی جانب سے آم کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں کی گئی اور عید کے بعد مقامی مارکیٹ میں نسبتاً بہتر معیار کا دسیری، سندھڑی  اور لنگڑا آم فروخت کیا جا رہا ہے لیکن عالمگیر وباء کورونا سے پھلوں کا بادشاہ آم بھی متاثر ہوا ہے۔

لاک ڈاؤن ہونے اور کاروبار میں کمی کی وجہ سے آم کی فروخت میں کمی آگئی ہے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر رواں سیزن میں پاکستانی آم 50 فیصد سے بھی زائد فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان فروٹ ویجیٹیبل ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے کہا ہے کہ پاکستانی آم رواں سیزن 40 فیصد کم برآمد ہوگا، آم کا برآمدی ہدف رواں سیزن 80 ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے جس سے 5 کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے۔

پاکستان فروٹ ویجیٹیبل ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس کے باعث حکومت رواں سیزن آم ایکسپورٹ پر فریٹ سبسڈی فراہم کرے۔ وحید احمد نے کہا کہ پچھلے سیزن میں 9 کروڑ ڈالر کا ایک لاکھ 30 ہزارٹن آم برآمد ہوا تھا تاہم رواں برس کورونا وائرس کی وجہ سے آم کی طلب کم رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت، ہوٹلنگ اور شاپنگ سینٹرز بند ہونے سے آم کی طلب کم ہوئی ہے جبکہ ائیرلائنز نے یورپ اور مشرق وسطیٰ کا کرایہ 200 فیصد بڑھا دیا ہے اس لئے حکومت آم کے ایکسپورٹرز کو سپورٹ فراہم کرے اور انہیں زرتلافی دے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here