لاک ڈاؤن کے باعث 29 سال سے کم عمر ہر چھٹا شخص روزگار سے محروم

67

جنیوا: بین الاقوامی ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث 29 سال سے کم عمر ہر چھٹا شخص روزگار سے محروم ہوچکا ہے، اس وباء کے اثرات عشروں تک ان کے روزگار اور کیریئر کے انتخاب پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

یہ بات آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائیرائڈر نے جنیوا ورچوئل کانفرنس کے دوران کہی۔ انھوں نے کہا کہ کورونا سے لوگ بڑی تعداد میں صحتیاب بھی ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے نوجوانوں کا مستقل سوالیہ نشان بن چکا ہے، وہ نہ صرف پیچھے رہ جائیں گے بلکہ اس وباء کے اثرات ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت تک رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں  نوجوانوں کی 17.1 فیصد تعداد نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، اس بحران سے پہلے 2019ء میں ہی نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 13.6 فیصد تھی جو کسی بھی دوسرے گروہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جبکہ تقریبا 267 ملین (26 کروڑ 70لاکھ) نوجوان نہ تو ملازمت رکھتے ہیں اور نہ ہی تعلیم و تربیت  کے حامل ہیں۔

رائڈر نے کہا  کہ جہاں سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے وہاں لیبر مارکیٹ کے نتائج زیادہ مثبت رہے ہیں اور وہاں کام کے گھنٹوں میں کمی سات فیصد کے لگ بھگ رہی ہے جبکہ کم جانچ والے ملک میں یہ 14 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

اپریل میں کھوئے ہوئے کام کے اوقات کے لحاظ سے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں مزدوروں  کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اس کے بعد یورپ اور وسطی ایشیا  میں یہ نقصان 12.9 فیصد رہا۔

فروری کے بعد بے روزگاری میں تیزی سے اضافے سے نوجوان خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، اگر  ہم نے صورتحال کی بہتری کے لیے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو  وائرس کے اثرات کئی دہائیوں تک ہمارا پیچھا کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here