امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو ‘لگام’ ڈالنے کی کوشش، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر کیا ہے؟

ایگزیکٹؤ آرڈر پر دستخط کے بعد امریکہ میں سوشل میڈیا کے نگراں ادارے آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف صارفین کا مواد بلاک کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر قانونی کارروائی کرسکیں گے

247

واشنگٹن، لندن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ کو کم کرنے کیلئے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کردیئے ہیں، ایگزیکٹیو آرڈر کی منظوری کے بعد امریکہ میں سوشل میڈیا کے نگراں ادارے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف صارفین کا مواد بلاک کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر قانونی کارروائی کر سکیں گے۔

جمعہ کو امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا کہ انہیں لامحدود اختیارت حاصل ہیں۔

ایگزیکٹیو آرڈر کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس ‘سلیکٹیو سینسر شپ’ میں ملوث ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے بدھ کو پوسٹل بیلٹ سے متعلق صدر ٹرمپ کی دو ٹویٹس پر فیکٹ چیک کا لیبل چسپاں کیا تھا۔

ٹوئٹر کے اس اقدام کو صدر ٹرمپ نے آزادی اظہار رائے کا گلہ گھوٹنے کے مترادف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹوئٹر امریکہ کے 2020ء میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ٹویٹر کا ملازمین کو ہمیشہ گھروں سے کام کی اجازت دینے کا فیصلہ 

کیا فیس بک آن لائن کاروبار پر بھی تسلط قائم کرنے جا رہی ہے؟

75 فیصد پاکستانی موبائل فون ، 35 فیصد انٹرنیٹ، 17فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں: رپورٹ

ایگزیکٹیو آرڈر سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں متنبہ کیا تھا کہ آج بڑا ایکشن ہونے والا ہے۔ اس آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا کہ انھیں لامحدود اختیارت حاصل ہیں۔ ایگزیکٹیو آرڈر میں ‘کمیونیکیشن ڈیسینسی ایکٹ’ کی دوبارہ وضاحت کی گئی ہے۔

اس ایکٹ کے تحت فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کو مخصوص صورتحال میں حاصل قانونی تحفظ کی تشریح کی گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کئے جانے والے مواد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا تاہم آن لائن پلیٹ فارمز فحش، متشدد اور ہراسانی پر مبنی مواد کو بلاک کرسکتے ہیں۔

ایگزیکٹیو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اس شق کے تحت حاصل استثنا اس وقت نافذ العمل نہیں ہو سکتا جب سوشل نیٹ ورکس صارفین کی جانب سے پوسٹ کردہ مواد میں بذات خود ترمیم کرتے ہیں۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ ‘دھوکہ دہی’ کے انداز میں مواد کو بلاک کرنا اور ویٹ سائٹ کے قواعد و ضوابط میں درج وجوہات کے علاوہ کسی بھی اور وجہ سے مواد کو ویب سائٹ سے ہٹانے کو قانونی استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

مسودے کے مطابق فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اس بات کی وضاحت کرے گا کہ کس طرح کے مواد کو دھوکہ دہی سے ہٹانا خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں (سوشل میڈیا کمپنیاں) کی شرائط و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس آرڈر کے تحت سوشل میڈیا سائٹس کو دیئے جانے والے حکومتی اشتہارات پر نظرثانی کی جائے گی جبکہ وائٹ ہاؤس میں ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو صارفین کی سوشل میڈیا سے متعلق شکایات وصول کرے گا۔

اس ایگزیکٹیو آرڈر میں ٹوئٹر کا نام بارہا استعمال کیا گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس آرڈر کو جلد قانونی پلیٹ فارمز پر چیلنج کر دیا جائے گا۔

دریں اثناء فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ ایک ایسی حکومت نے جو سینسرشپ کے حوالے سے فکر مند رہتی ہے اس کے لیے ایسا کرنا کوئی مناسب اقدام نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ بھی آن لائن کہتے ہیں فیس بک کو ان کی کہی ہوئی بات کی سچائی پر ثالث کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیاں، خاص کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اس پوزیشن میں بالکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سچائی کا فیصلہ کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here