1960 میں حکومت پاکستان نے دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، حکومت اور طاقت کا ایک نیا مرکز بنانا بلاشبہ ایک مشکل اور ہمت طلب کام تھا مگر وسیع و عریض پہاڑی جنگل کے بیچ و بیچ ایک عالمی معیار کا خوبصورت شہر اور دارالحکومت تعمیر کرانے کا سہرا سابق صدر ایوب خان کے سر ہے۔

روم بھلے ہی ایک دن میں نہ بنا ہو مگر اسلام آباد کے دارالحکومت کے طور پر قیام کو چار سال لگے، اس شہر کا قیام معروف یونانی آرکیٹیکٹ Constantinos Apostolou Doxiadis کے ہاتھوں ہوا اور جس وقت اسلام آباد کا قیام عمل میں لایا جا رہا تھا اس وقت اسے ’مستقبل کا شہر‘ قرار دیا گیا تھا۔

مارگلہ کی پہاڑیوں میں گھرے ہوے اسلام آباد کو مختلف اقوام اور زمینی تقسیم کے شکار ملک کی یکجہتی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔

لیکن یہ جدید شہر اب سستی ہائوسنگ سکیموں، کمرشل اور دفاتر کی جگہوں کے فقدان،  انفراسٹرکچر کی تباہی، غیر قانونی اور بے ہنگم ترقی کا شکار ہو رہا ہے جہاں کم آمدنی والے افراد کے لیے رہنا بہت مشکل ہے۔

اس شہر کی ترقی کے لیے اسلام آباد ماسٹر پلان بنایا گیا جوکہ ایک ایسی دستاویز ہے جس پر بارہا نظرثانی کی جا چکی ہے، اس شہر کو پسند کرنے والے یہاں ہی جینا اور مرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے مخالفین کہتے ہیں کہ اب یہ بے کار ہوگیا ہے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

ماسٹر پلان کے ساتھ ہی کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا قیام بھی عمل میں آیا جس کے پاس شہر اور 1960ء میں قائم کیے گئے اس کے پانچ زونز کا انتظام ہے۔

2017ء میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں غیر قانونی آباد کاری اور ترقیاتی کاموں پر ازخود نوٹس لیا تھا اور انتظامیہ کو مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے 9 جولائی 2018ء کے فیصلے میں حکومت کو اسلام آباد ماسٹر پلان کے دوبارہ جائزے کے لیے کمیشن بنانے کا حکم جاری کیا  تھا جس کے نتیجے میں اگست 2019ء میں ایک کمیشن کی تشکیل عمل میں آئی۔

تاہم اس کمیشن کی جانب سے ایسی سفارشات پیش کی گئیں جن کا مقصد مسئلے سے صرفِ نظر کرنا اور شہرکی موجودہ شکل کو برقرار رکھنا تھا۔ اس وقت اسلام آباد اپنے آپ سے یہ لڑائی لڑنے میں مصروف ہے کہ اس کو اپنی صلاحیت کے مطابق توسیع ملنی چاہیے یا صرف امراء کا مسکن بننا ہے۔

اس حوالے سے ہم نے اسلام آباد کی مختصر مگر بھرپور تاریخ کا جائزہ لیا تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ دارالخلافہ کو ایک اور ماسٹر پلان کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ شہر کا انتظام کس طرح سے چلایا جائے۔

اسلام آباد کے قیام کی منصوبہ بندی کی تاریخ :

 اسلام آباد کی منصوبہ بندی ایک ایسے شہر کے طور پر کی گئی تھی جو کم آبادی پر مشتمل ہو گا، لیکن جب شہر بن رہا تھا تب Doxiadis صرف اس کی سڑکیں، عمارتیں اور ایونیوز کی ڈیزائن کرنے والا ایک آرکیٹیکٹ ہی نہیں تھا بلکہ وہ ایک ڈیویلپمنٹ کنسلٹنٹ بھی تھا جو شہر کے قیام کے علاوہ اس کے مستقبل کا بھی ذمہ دار تھا۔ اس کے لیے اسلام آباد ایک جدید شہر سے کم کچھ نہیں تھا۔

جس طرح سے ماہرین تعمیرات شہر کی تعمیر کو نقشوں میں دکھاتے ہیں سکالرز اس کے ہمیشہ سے ناقد رہے ہیں۔  نقشہ نویسی ایک کٹھن کام ہے جب بھی اس کا اطلاق لاہور، پشاور اور کراچی جیسے بڑے شہروں پر کیا جاتا ہے تو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہی وہ چیز ہے جس نے اسلام آباد کو منفرد تجربہ بنایا جہاں پرانی تہذیب کا کوئی اثر باقی نہیں تھا، یہ ایک صاف ستھرا شہر بنانے کا موقع تھا جہاں نظام حکومت اور شہر کی منصوبہ بندی مختلف طرز کی ہوتی۔ ایک ایسا شہر جس  کی گلیاں پرانے شہروں کی نسبت صاف ستھری ہونے کے علاوہ اس کے باسیوں کے لیے رہنے کی آئیڈیل جگہ ہوتی۔

Doxiadis نے اسلام آباد کے حوالے سے جو منصوبہ بندی کی تھی اس کے مطابق شہر کو چار چار کلومیٹر کے 84 سیکٹرز میں تقسیم کیا جانا تھا۔ ہر سیکٹر پانچ  مزید سیکٹرز پر مشتمل ہونا تھا یعنی چار رہائشی اور ایک کمرشل، ان سیکٹرز میں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے الگ الگ راستے بنائے جانے تھے۔ ہر سیکٹر امریکی شہروں کے مضافاتی علاقے کی طرز پر بنایا جانا تھا جہاں صرف سنگل فیملی والے گھر ہوتے۔

لیکن Doxiadis کا پیش کردہ یہ نظام اس بات کا احاطہ نہیں کرتا تھا کہ مستقبل میں لوگوں کی کتنی تعداد اسلام آباد کی طرف منتقل ہوگی، Doxiadis کے پلان میں غریبوں کے لیے زونز اور سٹی سینٹر کے قیام کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔

یہ ایسا پلان تھا جس کا تعلق جدت سے تھا، صاف ستھری گلیوں والے سیکٹرز جہاں ضرورت کی ہر چیز میسر ہو اور کسی کو بھی کسی چیز کے لیے سیکٹر سے باہر نہ جانا پڑے۔

اس پلان میں سیکرٹیریٹ کے علاوہ  دوسرے دفاتر کے قیام کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی اور نہ ہی شہر کے پھیلاؤ کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کی گئی۔

اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ اسلام اباد کے قیام کا مقصد طاقت اور نظام حکومت چلانے اور اس حوالے سے درکار مشینری جیسا کہ سیاستدانوں ، بیوروکریٹس وغیرہ کا ایک چھوٹا سا مرکز بنانا تھا۔

لیکن ہوا اس کے بالکل اُلٹ، بڑی تعداد میں لوگ رہائش کے لیے اسلام آباد چلے آئے اور اب شہر کی آبادی 20 لاکھ نفوس کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ اگرچہ عدالتوں اور سی ڈی اے کی جانب سے بار بار Doxiadis کے پلان کے نفاذ کی کوشش کی جاتی ہے مگر شہر کے ماسٹر پلان میں جو خرابی ہے وہ جوں کی توں ہے۔

غلطی کہاں ہوئی؟

یہ Doxiadis کی غلطی نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ماسٹر پلانز کیساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی آبادی اندازے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کے رہائشیوں کے درمیان سماجی اور معاشی فرق بھی خاصا وسیع ہو گیا ہے۔

مگر سی ڈی اے کی Doxiadis کے پلان سے جڑے رہنے کی خواہش کی وجہ سے شہر کی سماجی اور معاشی صلاحیت سمٹ کر رہ گئی ہے، زمین اور عمارتوں کے حوالے سے قوانین اتنے سخت ہیں کہ اس کی وجہ سے شہر کی ترقی مصنوعی اور سماجی سرگرمیاں دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔

اگرچہ اسلام آباد قدرتی طور پر پھیلا ہے مگر پھر بھی Doxiadis اور اس کے پلان کا بھوت اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہا اور اس کی وسعت کے عمل کو متاثر کر رہا ہے۔ شہر کی گلیاں Doxiadis کی خواہش کے برعکس بڑھی ہیں مگر پھر بھی سی ڈی اے ان کے بڑھنے کے عمل کو روکنے میں کافی حد تک کامیاب ہے۔

اس وقت شہر میں بے ہنگم آباد کاری ہو رہی ہے جہاں ہاؤسنگ سکیموں اور سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ 20 لاکھ کی آبادی والے شہر میں ایک لاکھ مکانات کی کمی ہے جس میں ہر سال 25 ہزار یونٹس کا اضافہ ہوگا جبکہ شہر میں ہر سال نئے بننے والے مکانات کی تعداد صرف تین ہزار ہے۔

اس پریشان کن صورتحال کے باوجود سی ڈی اے نے پچھلے 20 سالوں میں  شہر میں کوئی نیا رہائشی سیکٹر قائم نہیں کیا۔ شہر میں آخری رہائشی سیکٹر 1989ء میں بنایا گیا تھا۔

اسلام آباد کی مستحکم شہری ترقی میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں جیسا کہ زونز کا محدود کیا جانا جس کی وجہ سے بے ہنگم آباد کاری جنم لیتی ہے۔

اسلام آباد کا ڈیزائن اس طرح سے بنایا گیا تھا کہ کسی بھی رہائشی کو کسی بھی ضرورت کے لیے اپنے سیکٹر سے باہر نہ نکلنا پڑے تاہم لوگوں کی بڑی تعداد کی ہجرت کے سبب اس سوچ پر پانی پھر گیا۔

بے ہنگم آباد کاری کا ایک حل یہ ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں کی نسبت دور کے علاقوں میں بھر پور انداز میں آبادکاری کی جائے تاہم یہ ایک مشکل کام ہے مگر ایسا شہر کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

ویسے بھی بیشک اسلام آباد کوایک خاص طریقے سے ڈیزائن کیا گیا تھا تاہم شہر لوگوں کے لیے ہی بنائے جاتے ہیں نہ کہ کسی اور مقصد کے لیے۔

کیا ماسٹر پلان پرانے وقتوں کی بات بن گئے ہیں؟

بڑے پیمانے پر آباد کاری اور زونز سے متعلق قوانین کی تبدیلی بدلتے ہوئے اسلام آباد کی ضرورت ہے اور یہی وہ کام ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے شہر کے ماسٹر پلان پر نظر ثانی کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کو کرنے کی ضرورت تھی۔

اس کے بجائے مذکورہ کمیشن نے 60 سالہ پرانے پلان کی توثیق کردی، کمیشن کی سفارشات میں گاڑیوں کا خیال کرنے اور بلند و بالا تعمیرات کو محدود کرنے کی سفارش کی گئی۔ یہ اس بات سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف تھا کہ اسلام آباد اب ایک میٹرو پولیٹن بن رہا ہے۔

کمیشن کی سفارشات میں اسلام آباد میں رہنے والے بے گھروں اور شہر کی  بڑھتی ہوئی آبادی کا خیال رکھنے کے بجائے پرانے خیالات سے کام چلایا گیا۔ الغرض پہلے پلان کے 60 سال گزرنے کے بعد بھی شہراس پلان کے انتظار میں ہے جو اس کے مسائل کو حل کرسکے۔

کسی بھی پلان بنانے والے کے برسوں پرانے خیالات سے جڑے رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شہر کی موجودہ فطرت بدل جائے گی۔ درحقیقت جب زندگی پرانے خیالات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی تو شہر اور اس کے باسی برسوں مشکلات میں گزار دیتے ہیں اور اسلام آباد کے ساتھ ایسا ہی ہورہا ہے۔

ایک وقت تھا جب دنیا میں ماسٹر پلانز کی بہت اہمیت ہوتی تھی بلکہ یہ شہروں کے قیام کی بنیاد ہوتے تھے مگر بہر حال پچھلے کچھ عرصے سے بہت سی وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو رہا۔

ماسٹر پلان موجودہ اور سابق ڈیٹا کی بنیاد پر کسی شہر کی اگلے بیس کی شکل کی پیشگوئی کرتے ہیں جو کہ ایسا کرنے کا سائنسی طریقہ ہے مگر ان میں اس بات کا دھیان نہیں رکھا جاتا کہ لوگ غیر مستقل مزاج ہوتے ہیں اور مستقبل میں کسی ضرورت کے تحت شہر کی شکل تبدیل بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔

یہ پلانز غیر لچک دار اور غیر حقیقی مفروضوں کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں جو کسی بھی منصوبے کے لیے اسکی اپنی مرضی سے بڑھنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔

اگرچہ دنیا ان ماسٹر پلانز سے جان چھڑا رہی ہے مگر پاکستان ابھی تک ان سے چپکا ہوا ہے جو کہ پلانرز اور بلڈرز کی ملی بھگت کا شاخسانہ لگتا ہے۔

شہر کی پلاننگ میں عوام کا عمل دخل صفر ہے یہی وجہ ہے کہ ان پلانز کو نہ تو عوام کی جانب سے کبھی اپنایا گیا ہے اور نہ ہی یہ عوامی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شہر کی تعمیر پر دوبارہ غور

اسلام آباد کو توسیع دینے کے حق میں سب سے مضبوط اور اہم دلیل یہ ہےکہ اسے ایک مارکیٹ سمجھا جائے ایک ایسی مارکیٹ جو معاشی بڑھوتری میں سہولت کاری کا کام کرے اور معیشت میں بہتری کا سبب بنے۔

جیسا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے نائب چانسلر ندیم الحق کہتے ہیں کہ شہر مارکیٹوں سے بنتے ہیں اور اگر ان مارکیٹوں کا مقصد معیشت کو بڑھانا ہے تو انہیں (شہروں کو) توسیع دینی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسے شہر جو پیداوار اور معاشی ترقی کا سبب ہوتے ہیں وہ کبھی بھی ایسی منصوبہ بندی سے نہیں بنائے جاتے جس میں تبدیلی ممکن نہ ہو اور نہ ان کا قیام نیم شہری زندگی کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ان شہروں کی مسائل زدہ فطرت ہی ہوتی ہے جو ان کی پیداواری صلاحیت کا باعث ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے شہر ماسٹر پلان کو ترک کر کے سرمایہ کاروں کو اس فیصلے کا اختیار دے رہے ہیں کہ کیا بنایا جائے اور کیا نہیں۔

شہروں کی پلاننگ کرنے اور اس مقصد کے لیے ماسٹر پلان بنانے والوں کو صرف لوگوں کی صحت، حفاظت اور دیگر ضرورت کی فکر ہوتی ہے جبکہ معیشت پر ان کی توجہ نہیں ہوتی۔

اس سب کے علاوہ شہر کو دولت کا ذریعہ بھی سمجھنا چاہیے، استحصال کی نیت سے نہیں بلکہ اس کے رہائشیوں کی بھلائی کے لیے۔

شہرصرف رئیل اسٹیٹ کے شعبے یا عوام کی جانب سے پیسہ خرچ کرنے کی بدولت ہی پیسہ نہیں کماتے بلکہ ایسا شہر کے تباہ ہوتے ہوئے علاقوں کی بحالی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔

دنیا پہلے ہی ماسٹر پلانز کو محدود کر رہی اور وقت کیساتھ یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ اسلام آباد ماسٹر پلان ایک ناقص حکمت عملی کا نام ہے جو کہ  نظر ثانی کے بعد مزید مسائل زدہ ہوگیا ہے۔

اگرچہ سٹیٹس کو اسلام آباد کو پھلنے پھولنے نہیں دے گا مگر شہروں کے مضافات میں آبادی کاری ایک نیا ٹرینٖڈ ہے جسے دنیا تیزی سے اپنا رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دارالحکومت ضرورت سے زیادہ ریگولیٹڈ شہر ہے، کم آمدنی والے افراد کے لیے تو یہاں رہنا بہت مشکل ہے ۔

ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد ماسٹر پلان کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے،  ہماری تجویز یہ ہے کہ شہر کہ حوالے سے سوچ میں تبدیلی لائی جائے بلکہ ایسا صرف اسلام آباد کے بجائے دوسرے شہروں کے لیے بھی کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here