پی آئی اے حادثہ: ‘پرواز نے تین بار رَن وے کو چھوا، پائلٹ نے لینڈنگ گئیر نہ کھلنے کا نہیں بتایا’

سانحہ کی ابتدائی رپورٹ 22 جون کو پارلیمنٹ اور قوم کے سامنے پیش کی جائے گی، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی، وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

102

اسلام آباد: وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ 22 مئی 2020ء کو کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والی پی آئی اے پرواز نے لینڈنگ کی کوشش کے دوران تین بار رن وے کو چھوا لیکن پائلٹ نے لینڈنگ گئیر نہ کھلنے کے بارے میں بالکل اطلاع نہیں دی۔

جمعرات کو وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے صحافیوں کو بتایا کہ لینڈنگ کی پہلی کوشش میں طیارے کے انجنز نے تین بار رن وے سے رگڑ کھائی اور اس کے نشانات اب بھی رن وے پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرواز مناسب بلندی پر نہیں تھی حالانکہ کنٹرول ٹاور کی جانب سے پائلٹ مناسب بلندی برقرار رکھنے کیلئے بارہا کہا گیا جس کے جواب میں پائلٹ نے کہا “میں کر لوں گا۔”

علاوہ ازیں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ وزیراعظم کی منظوری سے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی ایئر فورس کے افسر کر رہے ہیں جبکہ پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں سمیت ایئر بس کے مشترکہ تیار کنندگان فرانس اور جرمنی کی 11 رکنی ٹیم بھی اس کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

طیارہ حادثہ، حکومت کا ورثاء کو 10، 10 لاکھ دینے کا اعلان

 طیارہ حادثہ، حقائق اور تفصیلات سے عوام کو مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا: وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ قبل از وقت ملبہ ہٹانے سے متعلق اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں، دوسرے روز جب میں وہاں پہنچا اس وقت بھی ملبہ وہاں موجود تھا اور جرمنی اور فرانس کی 11 رکنی ٹیم جب پاکستان پہنچی انہیں بھی ملبہ اور جائے وقوع کا معائنہ کرایا گیا۔

غلام سرور خان نے کہاکہ پاکستان بننے کے بعد ایسے 12 فضائی حادثات پیش آئے، 10 حادثہ پی آئی اے کے طیاروں کو اور دو نجی ایئر لائن کے طیاروں کو پیش آئے لیکن آج تک کسی بھی سانحہ کی بروقت رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیر ہوا بازی میری کوشش ہوگی کہ ان واقعات کی بھی رپورٹ قوم کے سامنے پیش کریں۔ پی آئی اے کے 22 مئی کو پیش آنے والے سانحہ کی ابتدائی رپورٹ 22 جون کو پارلیمنٹ اور قوم کے سامنے پیش کر دیں گے۔ یہ ایسا سانحہ ہے جس میں کسی کو نہ بچانے کی کوشش کی جائے اور نہ ہی کوئی ریلیف دیا جائے گا، صاف اور شفاف انکوائری رپورٹ پر منظرعام پر لانا وزیراعظم اور میری خواہش اور ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ ہر چیز ریکارڈ پر ہے اور بورڈ ہر لحاظ سے تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ دونوں باکس مل چکے ہیں، فرانس اتھارٹی اسے فرانس لے جا کر ڈی کوڈ کرے گی اور جو سوالات تکنیکی پہلوؤں سے اٹھائے گئے ہیں، ان کی مکمل چھان بین ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ٹی این اے کی شناخت کے بعد ہماری کوشش ہے کہ باقی ماندہ میتیں جلد ورثاء کے حوالے کر دی جائیں۔ انسانی جان کو کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا لیکن حکومت کے اعلان کے مطابق ورثاء کو معاوضے ادا کئے جائیں گے جس کا عمل جاری ہے، انشورنس کمپنی مسافروں کے لواحقین کو معاوضے ادا کرے گی جبکہ زمین پر جن کی املاک کو نقصان ہوا وزارت ہوا بازی کی طرف سے انہیں بھی معاوضے ادا کئے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پی آئی اے کا پائلٹ بھی ہمارا بھائی تھا تاہم انکوائری کیلئے درکار تمام تقاضے انکوائری بورڈ پورے کرے گا اور کسی قسم کا اثرو رسوخ استعمال نہیں ہوگا، میں اپنی جانب سے اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یقین دلاتا ہوں کہ نہ صرف انکوائری شفاف ہوگی بلکہ جو بھی رپورٹ آئی اس پر عملدرآمد ہوگا اور اسے منظرعام پر لایا جائے گا اور قوم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جائے گی۔

انہوں نے میڈیا سے گذارش کی کہ اس افسوسناک سانحہ پر تبصرے کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور سانحہ کے تکنیکی پہلوؤں کی تحقیقات ہونے تک غیر ضروری تبصروں سے گریز کریں۔

انہوں نے کہاکہ تحقیقاتی بورڈ کی رپورٹ مقدم ہوگی اور اس پر عمل کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مقامی پروازوں کا آپریشن نہ بند ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ این سی او سی کی منظوری سے محدود ملکی فضائی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ غیر ملکی پروازوں کے حوالہ سے انہوں نے کہاکہ صبح ناروے کیلئے پرواز جا رہی ہے تاہم بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کو ٹیسٹنگ اور قرنطیہ کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے واپس لایا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here