خفیہ ادارے عسکریت پسندوں کی نشاندہی کیلئے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے کورونا مریضوں کی نگرانی کرنے لگے

دہشتگردوں کی نشاندہی اور کاروائی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی مدد سے کورونا کے مریضوں اور ان سے میل جول کرنے والے افراد کا پتہ چلایا جارہا ہے، موبائل فون ٹریکنگ اور جیو فینسنگ کا استعمال، مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دنیا کے کئی ممالک نے یہی طریقہ اپنایا ہے

200

لاہور: پاکستان کے حساس ادارے عسکریت پسندوں کی نشاندہی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کورونا وائرس کے مریضوں اور ان سے ملنے والے  والے افراد کا پتہ لگانے کے لیے کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی منظوری سے شروع کیے جانے والے منصوبے میں ملک کی پریمیم انٹیلی جنس ایجنسی سے کورونا مریضوں کی نشاندہی کے لیے مدد طلب کی گئی ہے۔

اس پروگرام کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں مگر دو سرکاری اہلکاروں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ خفیہ ادارے اس مقصد کے لیے جیو فینسنگ اور فون مانیٹرنگ سسٹمز کو استعمال میں لا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

کورونا، سنگاپور کو آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بدترین معاشی بدحالی کا سامنا

2020ء کے دوران بین الاقوامی معیشت تین فیصد تک سکڑ جائے گی، آئی ایم ایف کا نیا تخمینہ

کینیڈا کی سب سے بڑی ائیرلائن کورونا سے متاثر، ہزاروں ملازمین نکالنے کا فیصلہ

اسرائیل دہشتگردوں کی ٹریکنگ کیلئے استعمال ہونے والی جاسوس ٹیکنالوجی سے کورونا وائرس کے مریضوں کی نگرانی کرے گا

عام طور پر یہ نظام دہشت گردوں کو ٹریس کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عدم آگہی اور خوف کی وجہ سے کورونا کی علامات رکھنے والے بہت سے لوگ ہسپتالوں کا  رُخ نہیں کر رہے بلکہ کئی ایک تو صحت کے مراکز سے فرار بھی ہو گئے ہیں ۔

مزید برآں وہ لوگ جو ان لوگوں سے قریبی رابطے میں تھے انکی جانب سے بھی احتیاط اور سماجی دوری کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آرہا۔

ایک سیکیورٹی اہلکار نے حکومت کی جانب سے اس غیر معمولی اقدام کے بارے میں بتایا کہ خفیہ ادارے کامیابی سے کورونا مریضوں کا پتہ لگا رہے ہیں۔

جیو فینسنگ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جس میں جب کوئی شخص کسی مخصوص علاقے سے باہر نکلتا ہے تو حکام کو خبر ہوجاتی ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ادارے کورونا کے مریضوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مزید برآں اداروں کی جانب سے متاثرہ افراد کے تعلق داروں کے فون بھی سنے جا رہے ہیں تاکہ یہ جانا جاسکے کہ ان کالز میں کورونا کی علامات بارے گفتگو ہوتی ہے یا نہیں۔

ایک انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کورونا مریضوں کے موبائل فون کو ٹریک کرتا ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ متاثرہ شخص غائب ہونے سے پہلے اور بعد میں کن افراد سے ملا تھا۔

واضح رہے کہ ملک میں اب تک 60 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 12 سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔

اگرچہ وزیراعظم نے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے کورونا کے مریضوں کی نشاندہی کے پروگرام کی تعریف کی ہے مگر کئی حلقوں کے جانب سے اس کی مخالفت میں بھی آواز بلند کی جا رہی ہے۔

پروگرام کے مخالفین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ خفیہ ادارے اپنی جاسوسی کی طاقت کا استعمال سیاسی مخالفین کی نشاندہی اور انہیں ہراساں کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔

اے این پی رہنما  اور سابق سینیٹرافراسیاب خٹک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی شمولیت سے لوگوں میں غیر ضروری خوف پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا مریضوں کی نشاندہی کا کام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو سونپ کر انٹیلی جنس ایجنسوں کو ان کا کام کرنے دیا جائے۔

واضح رہے کہ کورونا مریضوں کی نشاندہی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے کیا جارہا ہے، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے کورونا کے مریضوں کی ایسے ہی نگرانی کی جا رہی تھی جس پر ملک کی سپریم کورٹ نے عوام کی پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھا دئیے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here