ٹڈی دل کا بدترین حملہ، پاکستان میں خوراک کی قلت کا خدشہ

75

لاہور: پاکستان کو ٹڈی دل کے بدترین حملوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی اور کسانوں کو نقصان ہوا ہے، ان حملوں کے سبب ملک میں طویل المدتی خوراک کی قلت کا خدشہ ہو گیا ہے۔

سابق وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا ہے کہ رواں سال ٹڈی دل کے حملوں سے زرعی پیداوار کو 800 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے، یہ حکومت کی نااہلی اور سستی کے باعث ہوگا، جیسا کہ حکومت مؤثر طور پر فضائی سپرے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے مظفرگڑھ میں آم کے باغ کے مالک ملک شابو کا کہنا ہے، “میں مکمل طور پر برباد ہوگیا ہوں، میں نے حال ہی میں ایک زمین دار سے 10 ایکڑ آم کا باغ خریدا تھا لیکن مارچ اور اپریل میں ژالہ باری اور بارش نے باغ کو تباہ کیا اور اب ٹڈی دل وارد ہو گئے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کو برتن بجا کر بھگانے کے لیے ایک ملازم رکھا ہے۔ یہ آخری کوشش ہے ورنہ بہت نقصان ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس بحران کے بعد ٹڈی دل پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے، وزیراعظم عمران خان

پاکستان کی ٹڈی دل سے نمٹنے ڈی ایف آئی ڈی سے  تکنیکی معاونت کی درخواست

پاکستان ٹڈی دل کے خلاف ’جنگ‘ کیلئے ایک لاکھ چینی بطخوں کی فوج منگوائے گا

ترکی کی پاکستان کو ٹڈی دل بحران سے نمٹنے کے لیے امداد کی پیشکش

ٹڈی دل پنجاب کے شہر ملتان، شجاع آباد، مظفرگڑھ، بہاولنگر، جھنگ، کوٹ ادو، لیہ اور روجھان میں آم اور کپاس کے علاقوں میں حملہ آور ہوئی ہیں، جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے کئی علاقوں میں بھی کپاس اور آم کی فصل پر حملہ کر کے تباہی پھیلائی ہے۔

علی پور کے ایک زمیندار ملک تحسین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹڈی دل کا حالیہ حملہ ان کی فصلوں کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر رہا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کھیتوں میں سپرے کے لیے ٹیمیں بھیج کر ہماری مدد کرے۔

شجاع آباد سے تعلق رکھنے والے آم کے باغ کے مالک غلام علی نے کہا کہ انہوں نے ٹڈیوں کو بھگانے کے لیے ڈھول بجانے کا انتظام کیا ہے، ٹڈی دل نے آم کی تیار فصل کو بری طرح تباہ کردیا ہے۔ اپنی فصل کو تباہ ہوتے دیکھ کر دل ٹوٹ گیا ہے۔

بلوچستان میں کپاس کے ایک کسان میر بلوچ خان نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس سے قبل ٹڈی دل کا ایسا بدترین حملہ نہیں دیکھا، ٹڈی دل نے فصل کو مکمل تباہ کر دیا ہے، میر بلوچ خان نے 55 ایکڑ پر کپاس کی کاشت کی تھی۔

زرعی ماہرِ رمضان شیخ کہتے ہیں کہ صحرائی ٹڈی دل ایک درجن کے قریب چھوٹے پنکھ والی ٹڈیوں کی نسل میں شامل ہے، یہ ایک گروپ کی شکل  ملکر کھانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹڈی دل کا ہجوم افریقہ سے شروع ہوا، جہاں زیادہ بارش کے باعث انکی افزائش میں اضافہ ہوا۔ جنوبی ایشیا خصوصاََ پاکستان کے علاوہ ایران میں اِن حشرات کی افزائش ہوئی، بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک کی صحرائی پٹی کے کچھ حصوں میں اب ایک اور نسل پائی جا رہی ہے۔

ماہرِ زراعت نے کہا کہ ایک مربع کلو میٹر کے رقبے میں ٹڈی دل کے ایک جھنڈ کا 40 سے 80 ملین کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ بہت سی ٹڈی دل ایک دن میں 35 ہزار افراد کے کھانے کے برابر فصلوں کو کھا یا تباہ کرسکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here