جاپان کا معاشی استحکام کے نئے منصوبے کا اعلان، مالیاتی حجم 296 ارب ڈالر ہو گا

ہر بالغ اور بچے کو ایک لاکھ ین ( 930 ڈالر)، چھوٹی کمپنیوں کو کرایہ کی مد میں سبسڈی، میڈیکل ورکرز کو گرانٹ اور ادویات و ویکسین کی تیاری کے لیے گرانٹ پیکج میں شامل ہے 

123

ٹوکیو: جاپان نے کورونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے نئے مالی منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کا مالیاتی حجم 31.91 کھرب ین (296 ارب ڈالر ) ہوگا، اس میں چھوٹے کاروبار کے لیے سبسڈی اور طبی کارکنوں کے لیے نقد رقم بھی شامل ہے۔

اس بات کا اعلان وزیراعظم شنزو ایبے نے بدھ کے روز پیکج کی کابینہ سے منظوری کے بعد کیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور مریض دوسرے ملکوں کی نسبت کہیں کم ہیں اس کے باوجود ملک میں کاروباری سرگرمیوں بالخصوص شہریوں کی جانب سے خریداری میں کمی سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس سے 2015 ء کے بعد بڑی معاشی بدحالی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کابینہ نے 31.91 ٹریلین ین (296 ارب ڈالر) کے دوسرے غیر معمولی پیکج کی منظوری دی ہے جس میں چھوٹے کاروبار کے لیے سبسڈی اور طبی کارکنوں کے لیے نقد رقم شامل ہے، اس کے علاوہ بانڈز کے اجراء سے حاصل ہونے والے 117 ٹریلین ین بھی فنانس ریسکیو پروگرام اور کاروباری اداروں کی معاونت کے لیے استعمال ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے دوران جاری کردہ ابتدائی مالی پیکج  اور لون سکیم  کی شمولیت سے ریلیف اقدامات کی کل مالیت 230  ٹریلین ین ہوجائے گی جو ہماری جی ڈی پی کے 40  فیصد کے برابر اور اب تک کا سب سے بڑا پیکج ہوگا، صدی کے بدترین بحران کے دورانیے میں جاپانی معیشت کا تحفظ کریں گے۔

وزیر اعظم شنزوایبے نے کہا کہ ملک کے ہر بالغ اور بچے کو ایک لاکھ ین (930 امریکی ڈالر) دینا محرک پیکج میں شامل ہے۔ بچاؤ کے دیگر اقدامات میں چھوٹی کمپنیوں کو کرایہ کی مد میں ادائیگی کے لیے سبسڈی، میڈیکل ورکرز کو گرانٹ اور ادویات و ویکسین کی تیاری کے لیے گرانٹ شامل ہے۔

انہوں نے  ممبران پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اقدامات جلد پارلیمنٹ سے منظور کرائیں۔ وزیر خزانہ تارو آسو نے 2008ء کے مالی بحران کو جنم دینے والے امریکی سرمایہ کاری بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں لیہمن بحران سے زیادہ سنگین بحران کا سامنا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہم پوری قوت کے ساتھ عوامی اخراجات میں اضافہ اور معیشت کو زندہ کریں گے، ہم ملازمتوں اور کاروباروں کا بھی تحفظ کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here