کینیڈا کی سب سے بڑی ائیرلائن کورونا سے متاثر، ہزاروں ملازمین نکالنے کا فیصلہ

سفری پابندیوں کے باعث کمپنی کو سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.05 کینیڈین ڈالر کا نقصان، 200 جہاز گراؤنڈ، خدمات پانچ ہوائی اڈوں تک محدود، صورتحال کے پیش نظر نصف سے زائد افرادی قوت گھر بھیجنے کا فیصلہ

240

ٹورونٹو: دیگر شعبوں کی طرح کورونا وبا کی ہوا بازی کے شعے پر بھی تباہ کاریاں جاری ہیں جس کے تناظر میں دنیا کی متعدد بڑی ائیرلائنز کے بعد اب کینیڈا کی سب سے بڑی ائیر لائن نے بھی ملازمین کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کرلیا  ہے۔

تفصیلات کے مطابق ائیر کینیڈا 20 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے پر غور کر رہی ہے جو اس کے اس کے ملازمین کی کی کل تعداد کے نصف سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کا قہر: دنیا کی دوسری قدیم ترین ائیر لائن کا دیوالیہ نکل گیا

کورونا وائرس، برٹش ائیرویز کا 36 ہزار ملازمین معطل کرنے کا فیصلہ

کوروناوائرس: جرمنی، فرانس، امریکا، برطانیہ کی معیشتیں بد ترین کساد بازاری کے دہانے پر

اپنے اس اقدام کی توجیہ بیان کرتے ہوئے ائیر لائن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث اس کی پروازوں میں 95 فیصد کمی آچکی ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ مستقبل قریب میں صورتحال میں بھی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔

کمپنی کے فیصلے پر عمل درآمد 7 جون سے ہوگا۔

واضح رہے کہ ائیرکینیڈا نے کورونا وائرس کے باعث ہونے والے نقصانات کے باعث مارچ کے مہینے میں کاسٹ ریڈکشن پلان کے تحت اپنی آدھی افرادی قوت کو ملازمت سے نکالنے کا آغاز کیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے معاشی پیکج کے بعد اس نے 16 ہزار 500 افراد کو دوبارہ بھرتی کرنا شروع کردیا تھا مگر مالی مشکلات کے باعث اس نے اس پروگرام کو چھ جون کے بعد جاری رکھنے سے معذرت کرلی ہے۔

مہلک وائرس سے حفاظت کے مقصد سے لگائی گئی سفری پابندیوں کے باعث ائیرلائن نے 200 جہاز گراؤنڈ کرنے کے علاوہ اپنی خدمات کا دائرہ صرف پانچ ہوائی اڈوں تک کردیا ہے۔

سال کی پہلی سہ ماہی میں اسے 1.05 ارب کینیڈین ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں یہ 345 ملین کینیڈین ڈالر منافعے میں تھی۔

صورتحال کے پیش نظر کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو Calin Rovinescu نے ہوا بازی کی صنعت کو درپیش موجودہ بحران کو 9/11 اور 2008 کی کساد بازاری سے بدتر قرار دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here