کیا پاکستان چینی قرضوں کے چنگل میں پھنس رہا ہے؟ دفتر خارجہ کا بیان سامنے آ گیا

سی پیک منصوبوں سے متعلق پاکستان کا قرضہ مجموعی قومی قرضے کے 10 فیصد سے بھی کم ہے، اس سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں: دفتر خارجہ

80

اسلام آباد: پاکستان نے ایک بار پھر سی پیک کے قرضوں کے حوالے سے بعض حلقوں کے دعوئوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سی پیک منصوبوں سے متعلق پاکستان کا قرضہ مجموعی قومی قرضے کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی دونوں حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

سی پیک پر امریکی نائب سیکرٹری خارجہ کے ریمارکس غیر ذمہ دارانہ ہیں، چین

کیا پاکستان سی پیک میں امریکا کو شامل کرنے جا رہا ہے؟

قرضوں پر انکوائری کمیشن کی ہوشربا انکشافات سے بھرپور رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیا جانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس پر شرح سود 2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق بعض تبصرہ نگاروں اور رہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ اس امر کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔

بیان میں کہا  گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here