سٹیٹ بینک کو سکوک نیلامی سے 75 ارب روپے جمع

67

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت نے 74.617 ارب روپے کے پانچ سالہ گورنمنٹ آف پاکستان اجراء سکوک نیلامی کے ذریعے اکٹھے کیے ہیں۔

اس سے قبل اسلامک بانڈ کے لیے نیلامی کا ہدف 75 ارب روپے طے کیا گیا تھا۔ اسلامک بانڈ سے 114.49 ارب روپے کی رقم کی پیشکش کی گئی۔

مجموعی طور پر قبول کی جانے والی بولیوں میں 73.46 ارب روپے کی مسابقتی بولیاں قبول کی گئیں جبکہ1.157 ارب روپے کی غیرمسابقتی بولیاں منظور کی گئیں۔

کٹوتی کا مارجن بینچ مارک کے تحت 10 بیسز پوائنٹس پر مقرر کیا گیا تھا، جو تمام بولیوں کے لیے قابلِ قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت کو پہلی مرتبہ کم شرح پر سکوک کے ذریعہ 200 ارب روپے حاصل

حکومت کا گردشی قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے 200 ارب روپے جمع کرنے کے لیے سکوک II جاری کرنے کا امکان

اس سے قبل 23 اپریل کو حکومت نے اسلامک بانڈ کی نیلامی کے ذریعے 76.38 ارب روپے اکٹھے کیے تھے۔ اس صورتحال میں 75 ارب روپے نیلامی کے طےشدہ ہدف میں سے 190 ارب روپے کی پیشکش کی گئی۔ آئندہ نیلامی 18 جون کو منعقد کی جائے گی جس کا ہدف 75 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ دوسری نیلامی کا ہدف بھی 75 ارب طے کیا گیا ہے جو 23 جولائی 2020 کو منعقد کی جائے گی۔

سٹیٹ بینک، جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ ٹرمینل کے خلاف پانچ سال کے لیے حکومتِ پاکستان کے خودمختار ‘اجراء’ کی بنیاد پر سکوک جاری کرے گا، اجراء ایک تکنیکی اسلامک ٹرم ہے ‘جس کا مطلب کوئی چیز کرائے پر دینا ہے’۔

مرکزی بینک نے ایسا کرتے ہوئے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ شریعت کے مطابق قرضوں کی سکیورٹیز میں تجارت کو متحرک کرنے کے دومقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث بجٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل اپریل میں وفاقی کابینہ نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے 700 ارب روپے کے قریب پیدا کرنے کے لیے سکوک بانڈ جاری کرنے کی منظوری دی تھی جس کا بنیادی مقصد کورونا وائرس کے خلاف جنگ کرنا ہے۔

اِن اسلامک بانڈز کے اجرا سے اسلامی بینکاری کی ترقی کرتی ہوئی صنعت کے لیے سرمایہ کاری کو ریگولیٹ اور بہتر کرنے کی کوششیں کرنا ہیں۔ قبل ازیں، موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈومیسٹک خودمختار سکوک بانڈز کا اجرا طلب کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھا جس سے اسلامی بینکوں کو اپنی لیکویڈیٹی کہیں اور سے استعمال کرنا پڑیں۔

اس لیے، سکوک آلات کی دستیابی سے اسلامک بینکوں کو اپنی لیکویڈیٹی کے انتظام کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here