پلاننگ کمیشن نے 16 ارب کے چھ منصوبوں کی منظوری دیدی

 صحت، ہائر ایجوکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعت و تجارت سے متعلق منصوبوں کی منظوری دی گئی،  25 ارب لاگت ایک منصوبہ حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا

101

اسلام آباد: ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر محمد جہانزیب خان کی زیر صدارت سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 16.111 ارب  روپے کی لاگت کے چھ منصوبے منظور جبکہ 25.226 ارب روپے کی لاگت کا ایک منصوبہ حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔

اجلاس میں پلاننگ کمیشن کے افسران، وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلی افسران نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں صحت، ہائر ایجوکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعت و تجارت سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے۔

سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں صحت سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ سول رجسٹریشن اور اہم اعدادوشمار کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 201.917 ملین روپے کی لاگت کا پیش کی گئی۔

دوسرا منصوبہ بلوچستان ہیومین کیپٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کے لیے 5616.985 ملین روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا، اجلاس میں دونوں منصوبوں کو منظور کر لیا گیا۔

اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کے شعبے سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے، جس میں امریکہ پاکستان نالج کاریڈور کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام کے لیے 25226.274 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ  پیش کیا گیا جس کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔

ہائیر ایجوکیشن کا دوسرا منصوبہ جلوزئی کیمپس یو ای ٹی پشاور کے لیے 6535.32 ملین روپے کا پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔

سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلا س میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ 689.653 ملین روہے کی لاگت کا وفاقی حکومت کے ڈویڑن میں ای آفس سسٹم کے قیام  جبکہ دوسرا منصوبہ  پاکستان سیٹلائٹ نیویگیشن پروگرام (پی ایس این پی) کے فزیبلٹی اینڈ سسٹم ڈیفینیشن اسٹڈی (ایف ایس ڈی ایس) کے لیے 780 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا، اجلا س میں دونوں منصوبوں کو منظور کر لیا گیا۔

اجلاس میں  بلوچستان میں حب خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے لیے 2287.844 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ اجلاس میں سات کانسلپٹ کلئیرنس منصوبے،  دو منصوبے ورلڈ بینک اور پانچ  منصوبے وزارت خزانہ کی جانب سے پیش کیے گئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here