جانسن اینڈ جانسن کا امریکا وکینیڈا میں پاؤڈر کی فروخت بند کرنے کا اعلان

کمپنی پر الزام ہے کہ اس کے ٹالک پاؤڈر میں کینسر کا مؤجب بننے والا جزو ایسبیٹوس پایا جاتا ہے جس کے بعد اسے ہزاروں مقدمات اور مصنوعات کی مانگ میں کمی کا سامنا ہے

128

جانسن اینڈ جانسن نے امریکا اور کینیڈا میں بچوں کا ٹالک پاؤڈر کی فروخت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسا اس کی پراڈکٹ بارے غلط معلومات کے پھیلاؤ کے باعث مانگ میں کمی اور قانونی مسائل کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔

کمپنی پر الزام ہے کہ اس کی ٹالک پراڈکٹس میں کینسر پیدا کرنے والا جز ایسبیسٹوس شامل ہے اور اس حوالے سے اسے امریکا میں 19 ہزار مقدمات کا سامنا ہے۔

جاری بیان میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے اپنے ٹالک پاؤڈرکے محفوظ ہونے پر پورا یقین ہے کیونکہ یہ دہائیوں کی سائنٹیفک ریسرچ کے بعد بنایا گیا ہے ۔

2018 میں ایک غیر ملکی جریدے کی رپورٹ میں اس دعوے کے بعد کہ جانسسن اینڈ جانسن کو اپنے ٹالک پاؤڈر میں ایسبیسٹوس کی موجودگی کا پتہ تھا، کمپنی کو بڑے پیمانے پر تحقیقات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پابندی کے باوجود بھارت سے ادویات کی درآمد کیسے ہوئی؟ وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا

کووڈ 19، ای کامرس کمپنیوں کی قسمت چمکنے کا وقت، لیکن مستقبل میں کیا ہوگا؟

لاک ڈائون میں گھر بیٹھے افراد کو کامیاب بزنس کے گر سکھانے کیلئے سٹیٹ بینک نے گیم متعارف کرا دی

خود کمپنی کی دستاویزات جن کا تعلق سن 1971 سے 2000 کے اوائل سے ہے میں اسکی پراڈکٹس میں ایسبیسٹوس کی موجودگی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کمپنی کو ایک ہی دن میں 40 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا اور اس کی مصنوعات کے محفوظ ہونے پر شدید قسم کے سوالات کھڑے ہوگئے تھے۔

تاہم میڈیا میں آنے والے ان الزامات کے حوالے سے کمپنی کا عدالت میں کہنا تھا کہ اس کی ٹالک پراڈکٹس بلکل محفوظ ہیں اور کینسر کا مؤجب نہیں ہیں۔

تاہم مصنوعات کے نقصان دہ ہونے کے الزامات کے تحت بنائے گئے مقدمات میں سے کئی میں کمپنی کوبھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔

اکتوبر 2019 میں امریکی ریاست پینسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا کی عدالت نے ایک کیس میں جانسن اینڈ جانسن کمپنی پر 8 ارب ڈالر یعنی پاکستانی 13 کھرب روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

عدالت نے کمپنی کی ’رسپیریڈون‘ نامی دوا استعمال کرنے کے بعد بیمار ہونے والے شخص 26 سالہ نکولس مری کو 13 کھرب روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

مذکورہ شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جانسن اینڈ جانسن کی ’رسپیریڈون‘ نامی دوا ڈاکٹر کی تجویز کے بعد استعمال کی مگر دوا کو استعمال کرنے کے بعد ان کے بریسٹ بڑھ گئے اور انہیں شرمندگی سمیت ذہنی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

عدالت نے متاثرہ شخص کی درخواست پر کمپنی پر بھاری جرمانہ ادا کیا تھا۔

اسی طرح نومبر 2019 میں بھی جانسن اینڈ جانسن کمپنی پر آسٹریلیا کی ایک عدالت نے خواتین کے لیے ناقص ڈیوائس تیار کرنے کے مقدمے میں لاکھوں ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔

عدالت میں آسٹریلیا بھر کی 1350 خواتین نے ’ناقص‘ اور ’عذاب میں مبتلا‘ کرنے والی میڈیکل ڈیوائس تیار کرنے پر مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔

ان خواتین کی عمریں 50 سے 80 سال کے درمیان تھیں اور ان میں سے بیشتر خواتین اندام نہانی کے ’شکنجے‘ میں خرابی کے پیدائشی مرض کے ساتھ پیدا ہوئی تھیں۔

کمپنی پر مقدمہ کرنے والی خواتین کو پیشاب کرنے سمیت دیگر مسائل کے درمیان تکلیف اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور انہوں نے ملٹی نیشنل کمپنی کی ڈیوائسز لگوا رکھی تھیں، تاہم ڈیوائسز لگوانے کے بعد خواتین کی تکلیف میں اضافہ ہوا اور انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت نے تمام 1350 خواتین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔

اسی طرح 4 سال قبل 2016 میں بھی ایک امریکی خاتون نے پاؤڈر کے استعمال کرنے پر کینسر ہوجانے کے بعد جانسن اینڈ جانسن پر مقدمہ دائر کیا تھا اور عدالت نے کمپنی کو متاثرہ خاتون کو 5 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

کمپنی کی جانب سے ٹالک پاؤڈر کی فروخت بند کرنے پر اس کے خلاف کیسز دائر کرنے والے افراد میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے مگر قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ فروخت بند کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمام مقدمات ختم ہوجائیں گے بلکہ کمپنی کو لگائے گئے الزامات پر اپنی صفائی دینا ہی ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here