کورونا کے باعث قرضوں پر چھوٹ، اقوام متحدہ میں وزیر اعظم عمران خان کی تجویز پر غور

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وبا کے باعث عالمی برادری سے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر غور کے لیے اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک حکام سمیت 22 ممالک کے مندوبین کا نیو یارک میں اجلاس

75

نیو یارک: وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کورونا کے تناظر میں غریب ممالک کے قرضوں پر رعایت کی تجویز پر اقوام متحدہ میں غور وخوض شروع ہوگیا۔

اس سے سلسلے میں دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے 22 ممالک کےمندوبین کا ورچوئل اجلاس امریکی شہر نیو یارک میں ہوا۔

اجلاس کی صدرات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کی اور اس میں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، اقوام متحدہ کے سینئر اہلکاروں کے علاوہ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے ترقی و تجارت کے حکام شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

68 سال میں پہلی بار پاکستان کی شرح نمو منفی رہنے کا امکان

گوگل اور ایپل مشترکہ طور پر کورونا کا پھیلاؤ سست کرنے کے لیے ٹیکنالوجی بنائیں گے

قرضے کی قسط موخر کرنے کیلئے پاکستان کی جی 20 ممالک کو باضابطہ درخواست

اجلاس کے آغاز پر پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا لکھا ہوا خطاب پڑھا جس میں خبردار کیا گیا کہ کورونا کے باعث پیدا شدہ صورتحال میں غریب ممالک کو قرضوں پر رعایت دینا وقت کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تواس سے ایک بحران جنم لے سکتا ہے۔

وزر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں اُمید کا اظہار کیا کہ معاملے پر ہونے والی غیر رسمی مشاورت کسی حتمی فیصلے کا باعث بنے گی۔

اجلاس میں شریک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر تجانی محمد بندے نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے  غریب ممالک کے قرضوں پر رعایت کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے جلد فیصلہ ہوجانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں وائرس سے متاثرہ ممالک اور افراد کی مدد کی جاسکے۔

اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ عالمی برادری کو کورونا کے تناظر میں غریب ممالک کے قرضوں کے معاملے کو پائیدار انداز میں حل کرنا چاہیے ۔

اس موقع پر شرکا کی جانب سے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو قرضوں پر رعایت دینے کے حوالے سے کئی تجاویز پیش کی گئیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد عالمی برادری سے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات جیسا کہ لاک ڈاؤن کے باعث غریب ممالک کی معیشت متاثر ہوگی جبکہ انکو کسی بڑے المیے سے بچنے کے لیے صحت کے شعبے پر بھی پہلے سے زیادہ وسائل خرچ کرنا پڑیں گے لیکن انکی مالی حالت ایسی نہیں کہ دونوں کام بیک وقت انجام دیے جاسکیں لہذا ایسے ممالک کے قرضے معاف کیےجائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here