ٹریکٹر مینوفیکچررز سبسڈی کے فیصلے پر عملدرآمد کے منتظر، سیلز ٹیکس ریفنڈز کا بھی مطالبہ

176

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی جانب سے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں رعایت (سبسڈی) دینے پر انڈسٹری نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اگر فیصلے پر تیزی سے عملدرآمد ہوا تو ملکی ٹریکٹر سازی کی صنعت دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔

الغازی ٹریکٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد شاہد حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں زراعت کے شعبے کو ریلیف دینا حکومت کا اچھا اقدام ہے کیونکہ زراعت قومی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ٹریکٹر سازی کی صنعت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے انڈسٹری کو متحرک کرنے کے لیے سبسڈی کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریکٹرز کی فروخت کو بحال کیا جاسکے۔

تاہم شاہد حسین نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو یہ سبسڈی لڑکھڑاتی انڈسٹری کو پہلے سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹریکٹر انڈسٹری کو لاک ڈاؤن سے بحران کا سامنا، وزیراعظم سے ریلیف پیکیج کا مطالبہ

لاک ڈاؤن سے استثنیٰ کے بعد الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ نے آپریشنز کا دوبارہ سے آغاز کر دیا

انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی سبسڈیز کا ماضی میں بھی اعلان کیا گیا لیکن ان پر کافی دیر تک عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں متعلقہ نوٹی فکیشن کے اجراء میں تاخیر کی وجہ سے ٹریکٹرز کی فروخت میں بھاری نقصان ہوا۔

محمد حسین نے کہا کہ “صارفین عام طور پر سبسڈیز کے بعد قیمتیں کم ہونے کے لیے اپنی رقم روک لیتے ہیں، اس لیے سبسڈی کے فیصلے پر عملدرآمد فوری طور پر کیا جانا چاہیے تاکہ کمپنیوں کو ٹریکٹر فروخت کرتے ہوئے نقصان نہ ہو۔

“یہ بالکل وہی ہو رہا ہے جیسا کہ ہمارے صارفین جو ٹریکٹرز خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اَب سبسڈی کی وجہ سے کم قیمتوں پر حاصل کرنے کے لیے ایس آراو کے منتظر ہیں، یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بالکل کم ٹریکٹرز فروخت ہوئے ہیں۔”

سی ای او الغازی ٹریکٹرز نے ٹریکٹرز کی فروخت کو بحال کرنے کے لیے حکومت سے جلد سبسڈی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کی درخواست کی، انہوں نے بقیہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس سے پیسے کی گردش کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here