امریکا میں متعدد مستحکم کاروباری اداروں کا ہزاروں ملازمین کو نکالنے کا اعلان

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کا 10 فیصد ورک فورس کم کرنے کا عندیہ، 16 ہزار ملازمتیں ختم ہو جائیں گی،یونائیٹڈ ائیرلائنز کا 30 فیصد عملے کو فارغ کرنے کا اعلان

101

نیویارک: کووڈ 19 کی  عالمگیر وبا کے بعد امریکا کی متعدد کمپنیوں کو شدید کاروباری مشکلات کا سامنا ہے جس کے بعد کئی ایسی کمپنیوں اور اداروں نے بھی ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو نوکریوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے جو بظاہر مالی طور پر مستحکم دکھائی دے رہے تھے۔

آن لائن ٹیکسی سروس اوبر نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ 3700 ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔ اوبر جیسی کمپنی ائیر لفٹ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ 982 ملازمین کو فارغ کر رہی ہے جب کہ مزید 288 ملازمین کو بلا تنخواہ رخصت پر بھیجا جا رہا ہے۔

کار رینٹل کمپنی ہرٹز نے بتایا تھا کہ وہ اپنے 10 ہزار ملازمین کو رخصت کرنے والی ہے۔ اس کے ملازمین کی کل تعداد 38 ہزار ہے۔

آن لائن ٹریول کمپنی ٹرپ ایڈوائزر نے کہا تھا کہ وہ 900 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔ یہ اس کی افرادی قوت کا چوتھائی حصہ بنتا ہے۔

ائیر بی این بی کے ذریعے کسی بھی شہر میں قیام کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ اس نے بھی اپنی 25 فیصد ورک فورس یعنی 1900 ملازمین کو 5 مئی کو فارغ کر دیا تھا۔ ہوٹلوں کی چین میریٹ انٹرنیشنل نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے دسیوں ہزار ملازمین کو بلا تنخواہ رخصت پر بھیج رہی ہے۔

رچرڈ برینسن کے فضائی ادارے ورجن اٹلانٹک نے اعلان کیا تھا کہ وہ تین ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم کر رہی ہے جب کہ بوئنگ 747 طیاروں کو بھی ایک سال پہلے ہی ریٹائیر کر دے گی۔

نارویجین ائیرلائنز نے اپنی 85 فیصد پروازیں بند کرنے اور 90 فیصد یعنی 7300 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔

سکینڈے نیوین ائیرلائنز نے بھی اپنے 90 فیصد یعنی 10 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا۔ یونائیٹڈ ائیرلائنز کا ایک میمو 4 مئی کو لیک ہوا جس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے 30 فیصد انتظامی عملے کو یکم اکتوبر کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس طرح 3400 ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے بتایا تھا کہ وہ اپنی 10 فیصد ورک فورس کم کر رہی ہے جس سے 16 ہزار ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ ان میں کچھ لوگوں کو رضاکارانہ طور پر ادارہ چھوڑنے کی پیشکش کی جائے گی اور باقی کو جبری طور پر رخصت کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here