کورونا سے پریشان ایمیریٹس کا ملازمین کی تعداد 30 فیصد کم کرنے پر غور

فیصلہ ہونے پر ایک لاکھ پانچ ہزار ملازمین میں سے تیس ہزار کی نوکریاں ختم ہوجائیں گی، کورونا کے حالات میں نظام چلانے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا: ایمیریٹس

232

دبئی : کورونا وائرس نے ہوا بازی کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے اورسفری  پابندیوں کے باعث کاروبار کم ہونے کی وجہ سے ہوائی کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کی تعداد میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ہوائی کمپنی ایمیریٹس  ائیر لائنز نے اپنے ملازمین کی تعداد میں 30 فیصد کمی کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ لیے جانے کی صورت میں کمپنی کے 1 لاکھ پانچ ہزار ملازمین میں سے 30 ہزار کی ملازمت ختم ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

کورونا ویکسین دنیا میں بلا معاوضہ دستیاب ہونی چاہیے، عمران خان سمیت 140 عالمی رہنماؤں کا مطالبہ

کورونا بحران، آئرش ائیرلائن کا تین ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

کورونا بحران سے عالمی معیشت کو 8.8 کھرب ڈالر نقصان ہو سکتا ہے

خبر رساں ادارے بلوم برگ  کے مطابق ایمیریٹس نے اپنے A-380  طیاروں کے بیڑے کو ریٹائر کرنے کے عمل کو بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایمیریٹس کی خاتون ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’’اگرچہ ملازمین کی تعداد میں کمی کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تاہم کمپنی کاروباری حوالے سے اخراجات کم کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملازمین کی تعداد میں کمی جیسا کچھ فیصلہ ہوا تو ایک ذمہ دار ادارہ ہونے کے ناطے اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

ایمیریٹس جس کا شمار دنیا کی چند بڑی ائیر لائنز میں ہوتا ہے کا اس ماہ کے آغاز پرکہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث اس کے کاروبار کو شدید دھچکا لگا ہے جس سے ریکوری کے لیے اسے 18 ماہ سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔

ائیر لائن کے مطابق مہلک وبا کے پیدا کردہ بحرانی حالات میں کام کرنے کے لیے وہ مزید قرض لے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل  آئرلینڈ کی ریان ائیر (Ryanair) بھی تین ہزار ملازمین کی برطرفی کا اعلان کر چکی ہے جن میں پائلٹس اور دیگر کریو سٹاف شامل ہے۔

کورونا بحران نے برٹش ائیر ویز کو بقاء کے مسائل سے دوچار کردیا ہے جس کے بعد ائیرلائن نے ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا عندیہ دیا تھا۔

ادھر عالمی وباء سے پروازوں کی بندش کے سبب دنیا بھر کی ائیرلائنز کا نقصان 314 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، یہ نقصان عالمی اداروں کے لگائے گئے تخمینہ سے بھی 25 فیصد زیادہ ہے جس کی وجہ معاشی تباہی ہے، چند انٹرنیشنل روٹس دوبارہ کھولے گئے ہیں لیکن پروازوں کا عمل توقع سے کم ہے جو بڑے نقصان کا باعث سمجھا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here