کورونا، برطانیہ کے امیر ترین افراد کی فہرست میں پاکستانی نژاد سر انور پرویز کی تنزلی

کورونا کے باعث بیسٹ وے گروپ کے بانی انورپرویز کو کاروبار میں 432 ملین پاؤنڈ کا نقصان، امیر ترین برطانوی شہریوں کی فہرست میں 42 ویں سے 50 ویں نمبر پر آگئے

501

لندن: کوورونا وائرس کی وجہ سے امیر ترین اشخاص کی فہرست میں موجود پاکستانی نژاد برطانوی شہری کی پوزیشن میں تنزلی ہوگئی۔

بیسٹ وے گروپ کی بنیاد رکھنے والے سر انور پرویز کی سنڈے ٹائمز کی فہرست کی پوزیشن میں تنزلی مہلک وبا کے باعث انھیں کاروبار میں 432 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہونے پر ہوئی۔

2020 کے امیر ترین برطانوی شہریوں کی فہرست میں اب وہ 42 ویں سے 50 ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے سر انور 1950 میں اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر برطانیہ گئے جہاں انھوں نے بطور بس کنڈیکٹر ملازمت کا آغاز کیا۔

انھیں ملکہ برطانیہ نے 1999 میں سر کے خطاب سے نوازا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا بحران کے باعث دنیا کی دوسری قدیم ترین ائیرلائن دیوالیہ ہو گئی

کورونا وائرس کی ویکسین کی ایجاد، دواساز کمپنیوں میں مقابلہ، کمائی کا نادر موقع

کورونا بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کیا ہے؟

اپنی  عظیم الشان کاروباری کامیابی کے سفر بارے سر انور کہتے ہیں کہ 5 سال بطور بس کنڈیکٹر اور ڈرائیور کام کرنے کے بعد انھوں نے پیسے بچا کر ایک ایک کرکے اپنے رشتہ داروں کو بھی برطانیہ بلانا شروع کردیا۔

1960 کی دہائی تک ان کے تمام رشتہ دار برطانیہ پہنچ گئے تھے جس کے بعد سب نے مل کر کام کیا اور اپنے کاروبار کی بنیاد ڈالی۔

1963 میں انہوں نے ایرل کورٹ میں حلال گوشت او مصالوں کی کا ایک ریٹیل سٹور کھولا۔

اس کے بعد انہوں نے کیش این کیری سٹورز کے کاروبار میں قدم رکھا اور آج ان کے اس کاروبار کی مالیت اربوں پاؤنڈ ہے۔

سنڈے ٹائمز کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ کورونا وبا کی وجہ سے برطانیہ کے امیر ترین افراد کو اربوں پاؤنڈ کا نقصان ہوا ہے جس کے  باعث ان کی دولت میں دہائیوں میں پہلی بار کمی واقع ہوئی ہے۔

سنڈے ٹائمز برطانوی جریدہ ہے جو 1989 سے ہر سال ملک کے ایک ہزار امیر ترین افراد کی فہرست مرتب کرتا ہے۔

اس کا بتانا تھا  کہ  کورونا کی وجہ سے پچھلے دو ماہ  میں برطانیہ کے امیر ترین افراد کو 54 ارب پاؤنڈ سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔

برطانیہ کے امیر ترین افراد میں سے تقریباً نصف کی دولت میں کورونا وائرس کے باعث  مشترکہ طور پرچھ ارب پاؤنڈ کی کمی ہوگئی ہے۔

  سنڈے ٹائمز کی تازہ فہرست میں جیمز ڈائسن پہلی دفعہ سب سے سر فہرست آئے ہیں جن کی دولت کا حجم 16.2 ارب پاؤنڈ لگایا گیا ہے۔

گزشتہ برس وہ اس فہرست میں پانچویں نمبر پر تھے تاہم رواں برس بہتر کاروباری کارکردگی اور دوسرے بزنس مینوں کو کاروبار میں نقصان کی بدولت وہ پہلی پوزیشن پر قبضہ جمانے پر کامیاب رہے۔

اسی طرح پچھلےسال کی فہرست میں پہلی پوزیشن میں آنے والے ہندوجا برادرز اس سال انہی کاروباری افراد کے گروہ کا حصہ ہیں جن کی دولت میں مشترکہ طور پر چھ ارب پاؤنڈ کی کمی آئی ہے۔

کورونا وائرس کے باعث کاروبار میں نقصان کے باعث رواں برس سنڈے ٹائمز نے انھیں اپنی فہرست میں دو انٹر پرینورز ڈیوڈ اور سائمن ریبن کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔

2020  کی فہرست کے مطابق برطانیہ کے امیر ترین افراد کی مجموعی دولت  743 ارب پاؤنڈ ہے جو کہ گزشتہ برس کی نسبت 29 ارب کم ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here