قومی بچت کے ادارے نے رواں برس کا نیٹ ٹارگٹ حاصل کرلیا

مختلف سرٹیفکیٹس کے منافعے میں اضافے کے باعث عوام کی قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی، سرمایہ کاروں نے توقعات کے برعکس اسکیموں سے پیسہ کم نکلوایا، بچت کی غرض سے جمع ہونے والی رقم 1 ہزار 150 ارب روپے ہوگئی

80

اسلام آباد: سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے رواں مالی سال کے ہدف کے تعاقب میں اب تک 185 ارب روپے اکٹھے کرلیے جو کہ رواں برس کا نیٹ ٹارگٹ ہے۔

سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کےایک اہلکار کا خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملک میں بچت کے کلچر کو فروغ  دینے کے لیے رواں مالی سال کے لیے 352 ارب روپے کا ہدف رکھنے کے علاوہ گراس ٹارگٹ کو بھی نظر ثانی کے بعد  1 ہزار 570 ارب روپے سے بڑھا دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ادارے کا ہدف 324 ارب روپے تھا مگر اس نے 410 ارب روپے اکٹھے کیے تھے جبکہ مالی سال 2017-18 میں 155 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

وفاق نے 10 واں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا

فنڈز میں کروڑوں کی خردبرد، قومی بچت سکیم کے 4 ملازمین کے خلاف کیس دائر

ایران: میزائل حادثاتی طور پر اپنے ہی جنگی بحری جہاز کو جا لگا، 19 افراد جاں بحق

انکا بتانا تھا کہ رواں برس ادارے کے پاس بچت کی غرض سے جمع ہونے والی رقم 1 ہزار 150 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ برس  774 ارب روپے تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بچت سرٹیفکیٹس کو معقول بنانے سے ادارے کی کلیکشن میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا جس کے باعث  مالی سال 2018-19 میں ہدف کو 224 سےبڑھا کر 324 ارب روپے کردیا گیا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ 40 ہزار روپے کے بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کی جانب سے بانڈز میں ہونے والی کل 258 ارب روپے کی سرمایہ کاری میں سے 25 اپریل تک 254 ارب روپے نکلوا لیے گئے جس کے بعد قومی بچت کے ادارے نے 24 جون 2019 کو یہ بانڈز بند کردیے ۔

واضح رہے کہ مرکزی بنک نے 24 جون کے بعد 40 ہزار روپے والے بانڈز کی فروخت بند کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ مزید برآں بنک کا کہنا تھا کہ یہ بانڈز 31 مئی کے بعد کیش نہیں کروائے جا سکیں گے۔

جس پر بانڈ ہولڈرز کو انہیں سپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس میں تبدیل کرنے کا آپشن دیا گیا تھا۔

قومی بچت کے اہلکار کا مزید بتانا تھا کہ ادارے کواُمید تھی کہ سرمایہ کار دسمبر 2019 تک 215 ارب روپے نکلوا لیں گے تاہم اکتوبر تک 40 ارب روپے جبکہ نومبر اور دسمبر میں 112 ارب روپے نکلوائے گئے۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ قومی بچت کے ادارے کی  جانب سے عوام کوبچت سکیموں میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کے لیے یکم نومبر 2019 کومختلف سرٹیفکیٹس کے منافعے میں اضافہ کیا گیا تھا اور فی الحال ان میں مزید اضافے کی اُمید نہیں ہے۔

انکا کہنا تھا کہ منافعے میں اضافے کے نتیجے میں ادارے کے ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے جسے حکومت بجٹ خسارے جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here