سپریم کورٹ کا ملک بھر کی مارکیٹیں، شاپنگ مالز پورا ہفتہ کھولنے کا حکم

511

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک بھر میں چھوٹی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز ہفتے اور اتوار کو بھی کھولنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ مارکیٹوں کو ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ چھوٹے دکانداروں کو کام کرنے سے نہ روکیں، آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو کورونا کے بجائے بھوک سے مرجائے گا، سیل کی گئی مارکیٹوں کو بھی کھولیں اور انہیں ڈرانے کے بجائے سمجھائیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کراچی میں پانچ بڑے مالز کے علاوہ کیا سب مارکیٹیں کھلی ہیں؟ اگر باقی مارکیٹس کھلی ہیں تو شاپنگ مال کیوں بند رکھے ہیں؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کورونا وائرس ازخودنوٹس کیس کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا ہے جس میں عدالت نے مارکیٹیں اور کاروباری سرگرمیاں ہفتہ اور اتوار کو بند کرنے کا حکومتی فیصلہ کالعدم قرار ے دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا خلاف آئین ہے۔

اس موقع پر عدالت نے پورے ہفتے ملک بھر کی تمام چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کا حکم دیا جب کہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایس او پیز کے مطابق شام 5 بجے تمام مارکیٹیں بند کی جائیں گی۔

دوسری جانب کاروباری براداری نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے، لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئرنائب صدر علی حسام اصغر و دیگر نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہونگے، تاجر برادری کو بہت بڑا ریلیف ملے گا کیونکہ اس کی آمدن کچھ نہیں جبکہ اخراجات بہت زیادہ ہورہے تھے۔

اب تاجروں اور عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا سے بچاؤ کے لیے حکومت کے تجویز کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تاجروں کی تمام مشکلات حل ہو جائیں گی، عوام کو خریداری کیلئے زیادہ وقت ملے گا جس سے بازاروں اور مارکیٹوں میں رش کم ہوگا اور ایس او پیز پر بھی عملدرآمد ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کے مالی حالات انتہائی خراب ہیں اور ان میں ادائیگیاں کرنے کی بھی سکت نہیں رہی اس فیصلے سے تاجروں کوبھی سکھ کا سانس ملا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here