جاپان میں پانچ سال بعد کساد بازاری، جی ڈی پی میں 3.4 فیصد کی کمی

104

ٹوکیو: کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث جاپان میں پانچ سال کے بعد کساد بازاری اور جی ڈی پی میں 3.4 فیصد کی کمی کا سامنا ہے۔

پیر کو برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 2015ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان کساد بازاری کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار اور صارفین کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔

نجی کھپت، سرمائے کے اخراجات اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے گذشتہ برس کی پہلی سہ ماہی کی نسبت رواں برس اسی عرصے کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سالانہ تین اعشاریہ چار فیصد تک کم ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی کچھ اچھے حالات دکھائی نہیں دے رہے۔

میجی یاسودا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے چیف اکانومسٹ یوچی کوڈاما نے کہا ہے کہ یقینی طور پر قریب ہے کہ معیشت رواں سہ ماہی میں اس سے بھی زیادہ گراوٹ کا شکار ہو۔

ماہرین کے مطابق یہ توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سہ ماہی میں جاپان کی معیشت میں سالانہ 22 فیصد کمی ہوگی جو کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق سب سے بڑی گراوٹ ہوگی۔

دوسری جانب روزگار کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی جاپانی کمپنی گاکْوجو نے کہا ہے کورونا وائرس کی جاری عالمی وباء کے خاتمے کے بعد شہروں میں مقیم جاپانی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہری علاقوں سے دور ملازمت کرنے کی خواہاں ہے۔

گاکْوجو کمپنی نے نئے روزگار کے متلاشی نوجوانوں سے سروے کے دوران پوچھا کہ یہ وبا انہیں کیسے متاثر کر رہی ہے۔ 24 اپریل سے یکم مئی تک جاری رہنے والے اس آن لائن سروے میں تقریباً 360 افراد نے جواب دیا۔ ان میں سے 36 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ دیہی علاقوں میں کام کرنا چاہتے ہیں۔

یہ تعداد فروری میں کیے گئے سروے سے تقریباً 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی وجہ دریافت کرنے پر چند رائے دہندگان نے جواب دیا کہ اْنہوں نے گھر سے کام کرتے ہوئے یہ سمجھ لیا کہ کام کہیں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

دیگر جواب دہندگان نے کہا کہ اْنہوں نے محسوس کیا کہ شہری علاقوں میں کام کرنا انتہائی پْرخطر ہے۔ تاہم دیگر نے کہا کہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانا چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here