ٹرانسپورٹرز کا حکومتی ایس او پیز کیساتھ بسیں چلانے سے انکار

گنجائش سے آدھے مسافر وں، مقرر کردہ کرایوں میں گاڑیاں نہیں چلا سکتے، حکومت ہمارے ساتھ مل کر  ایس او پیز بنائے : آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن

189

لاہور: آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن (اےپی پی ٹی او ایف) نے حکومتی شرائط کے ساتھ بسیں چلانے سے انکار کردیا جس کے بعد پنجاب میں کل سے پبلک ٹرانسپورٹ اور انٹرسٹی بسیں چلنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

چیئرمین آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن عصمت اللہ نیازی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کی تنظیموں سے رابطے میں ہیں، پنجاب میں کل سے پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ گنجائش سے آدھے مسافر بٹھانے کے بعد حکومت کے مقرر کردہ کرایوں میں گاڑیاں نہیں چلا سکتے، حکومت پنجاب جب تک ہمارے ساتھ مل کر  ایس او پیز نہیں بنائے گی تو ٹرانسپورٹ نہیں چلائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ 50 سال کی عمر سے زائد مسافر، ڈرائیور اورکنڈکٹر کو بس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں جب کہ 20 فیصد کرایوں میں اور 50 فیصد مسافروں میں کمی کے ساتھ ٹول ٹیکس اور  موٹروے پولیس کے چالان بھی ادا کرنے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اڈہ پرچی اور دیگر اخراجات الگ ہیں، 90 فیصد خسارے کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلا سکتے۔

واضح رہے کہ ہفتے کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انٹرسٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسی سروس کھولنے کی اجازت دی تھی جب کہ کرایوں میں بھی 20 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here