ہواوے کو چپ سیٹس کی فراہمی کے لیے امریکہ کا نیا قانون بنانے کا فیصلہ، چین کا جوابی اقدام

نئے قانون سے ہواوے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی سے بنے چپ سیٹ استعمال کرنا مشکل ہوجائے گا جوابی اقدام کے طور پر چین نے کئی امریکیوں کمپنیوں کو ’ ناقبل بھروسہ اداروں‘ کی فہرست میں شامل کردیا

80

واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ نے چینی کمپنی ہواوے کو سیمی کنڈکٹر کی کھیپ کی منتقلی روک دی۔

امریکی محکمہ تجارت کا اس اقدام سے متعلق کہنا تھا کہ اس کی جانب سے ہواوے کو سٹریٹیجک بنیادوں پر ہدف بنانے کے لیے برآمدات کے قانون میں ترمیم کی جارہی ہے تاکہ امریکی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار ہونے والے سیمی کنڈکٹرز کے حصول میں اس کے لیے مشکلات پیدا کی جاسکیں۔

اُدھر چین نے بھی اس اقدام کا فوری جواب دیتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو ’  نا قابل بھروسہ اداروں ‘ کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اس چیز کے لیے تیار تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

چین کا امریکا سے اقوام متحدہ کے واجب الادا 2 ارب ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ

کورونا، ورلڈ بنک نے پاکستان کے لیے 247.5 ملین ڈالر کا پروگرام تشکیل دے دیا

پاکستان کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوگئے

چین کے اس اقدام کا مطلب مخلتف امریکی کمپنیوں جیسا کہ ایپل انکارپوریشن، سسکو سسٹمز انکارپوریشن اور کال کوم (Qualcomm) پر پابندیاں لگانا اور انکے خلاف تحقیقات کا آغاز کرنے سمیت بوئنگ سے طیاروں کی خریداری معطل کرنا ہے۔

امریکی اقدام موبائل بنانے والی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی ہواوے سمیت اسکے لیے سیلی کون چپس بنانے والی تائیوان کی کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچورنگ کمپنی لیمیٹڈ کے لیے بھی ایک زبردست دھچکہ ہے۔ یہ کمپنی ایپل اور کال کوم (Qualcomm) کے لیے بھی چپس تیار کرتی ہے ۔

حالیہ امریکی اقدام سے قبل اس کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ 12 ارب ڈالر کی مالیت سے ایری زونا میں کارخانہ لگائے گی۔

امریکی اقدام سے متعلق اس کا کہنا تھا کہ وہ قانونی ماہرین کی مدد سے اسکا مفصل اور جامع جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے  امریکی قانون کے نفاذ سے پہلے ہی کسی نتیجے پر پپہنچ جائے گی۔

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی سپلائی چین کافی پیچیدہ ہے اور بہت سے بین الاقوامی سپلائر ملک کر اسکی تشکیل کرتے ہیں۔

ہواوے جسے اپنے اسمارٹ فونز اور دوسرت ٹیل کام آلات کے لیے سیمی کنڈکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے وہ چین اور امریکا کے درمیان ٹیکنا لوجی کی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔

تاہم اس نے امریکہ کی جانب سے سیمی کنڈکٹر کی کھیپ روکے جانے پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر31  مارچ کو ممکنہ طور پر نئی امریکی پابندیوں بارے خبردار کرتے ہوئے اس کے چئیرمین ایرک زو کا صحافیوں کو بتانا تھا کہ چینی حکومت جواب میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔

امریکہ جاسوسی کے الزامات لگا کر اپنے اتحادیوں کو مسلسل ہواوے کے فائیو جی آلات استعمال نہ کرنے پر قائل کر رہا ہے مگر چین نے بارہا ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ مئی 2019 میں بلیک لسٹ کیے جانے کے باوجود ہواوے سیمی کنڈکٹر تیار کرنے کے لیے امریکی سافٹ وئیر اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے ۔

نئے امریکی قانون کے تحت ہواوے کو چپس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو آئندہ ایسا کرنے کے لیے لائسنس درکار ہوگا۔

اسی طرح اگر ہواوے امریکی سافٹ وئیر یا ٹیکنالوجی سے بننے والے چپ سیٹ استعمال کرنا چاہے گا تو اسے بھی امریکی محکمہ تجارت سے لائسنس لینا پڑے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here