دسواں این ایف سی ایوارڈ : وفاق کا حصہ بڑھانے پر صوبوں کی جانب سے شدید ردعمل کا امکان

وفاق کو وسائل کی تقسیم کے تناسب پر شکایت تو آئی ایم ایف اور عسکری ادارے بھی اس سے خوش نہیں مگر ریونیو میں حصے کی کٹوتی کو خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بھی برداشت نہیں کرے گی : ذرائع

221

اسلام آباد : دسویں قومی مالیاتی کمیشن میں وفاق کی جانب سے دفاع اور قدرتی آفات کی مد میں وسائل میں اپنا حصہ بڑھانے پر صوبوں کی جانب سے شدید ردعمل کا امکان ہے۔

کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس تو ایک طرف، سندھ نے مالیاتی کمیشن کی تشکیل پر ہی سوال اُٹھا دیا ہے جبکہ امکان ہے کہ دوسرے صوبے بھی جلد ہی سندھ کے نقش قدم پر چل پڑیں گے۔

ذرائع کے مطابق جہاں تک وسائل کی تقسیم کا معاملہ ہے تو اس پر تو خود پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت بھی سمجھوتہ نہیں کرے گی کیونکہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ صوبوں نے ہمیشہ وفاق کا حصہ بڑھانے پر مزاحمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

آئی ایم ایف کا ہنگامی قرض پاکستان کے مالیاتی خطرات کو کم کرے گا: موڈیز

موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ کم کرنے کی بازگشت، وزارت خزانہ کی تردید

کورونا، ورلڈ بنک نے پاکستان کے لیے 247.5 ملین ڈالر کا پروگرام تشکیل دے دیا

 ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے اٹھارویں ترمیم کو تبدیل کیے بغیر اور کچھ اداروں کے ذریعے صوبائی حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنا حصہ بڑھانے کا عمل اُلٹا اس کے گلے پڑ سکتا ہے۔

پرافٹ اردو کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے علاوہ عسکری ادارے اور کچھ دوسرے حلقے بھی وسائل کی تقسیم کے موجودہ طریقہ کار کے خلاف ہیں تاہم آئینی رکاوٹوں اور صوبوں کی جانب سے ردعمل کے باعث وسائل کی تقسیم کا تناسب  8ویں اور 9ویں این ایف سی ایوارڈ کی ناکامی کے باوجود گزشتہ دس سال سے جوں کا توں ہے ۔

دفاع کے علاوہ وفاق نے قرضوں کی ادائیگی، ریاست کے ملکیتی اداروں کے خسارے سے نمٹنے اور آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے بھی وسائل میں سے حصہ طلب کیا ہے۔

تاہم وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ معاملے پر صوبوں کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی پیشرفت ہوگی۔

اُدھر این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ وفاق اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کرکے صوبوں کا حصہ 15 فیصد کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

اس وقت ملک کے وسائل وفاق اور صوبوں میں بالترتیب 57.5 اور 42.5 فیصد کی شرح سے تقسیم کیے جاتے ہیں۔

وفاق کا کہنا ہے کہ صوبوں کے حصے کی ادائیگی کے بعد اس کے پاس بمشکل قرضوں کی ادائیگی اور دفاع کے لیے ہی وسائل بچتے ہیں جس کی وجہ سے اسے انتظامی و ترقیاتی معاملات کے لیے قرض خواہوں کے در پر جانا پڑتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here