تاجروں کا شرح سود کو مزید کم کر کے پانچ فیصد تک لانے کا مطالبہ

ملائشیا، انڈونیشیا میں شرح سود 4.50 فیصد، چین 3.85 فیصد، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ میں 0.75 فیصد، جاپان 0.10 فیصد، امریکہ و یورپ میں زیرو فیصد، پاکستان میں ابھی بھی سب سے زیادہ ہے: صدر اسلام آباد چیمبر

391

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا ہے  کہ کاروبار کی بحالی کیلئے شرح سود کو مزید کم کر کے پانچ فیصد تک لانے کی  ضرورت ہے۔

ہفتہ کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کو بلند شرح سود کا سامنا رہا ہے جس نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعت و تجارت کی بحالی کیلئے شرح سود کو مزید کم کر کے کم از کم پانچ فیصد تک لانے پر سنجیدگی سے غور کرے۔

محمد احمد وحید نے کہا کہ کورونا وائرس نے دنیا بھر میں کاروبار اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک نے کاروباری طبقے اور معیشت کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے شرح سود میں واضح کمی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملائشیا اور انڈونیشیا میں اس وقت شرح سود 4.50 فیصد،  چین میں 3.85 فیصد، جنوبی کوریا اور تھائی لینڈ میں 0.75 فیصد، جاپان میں 0.10 فیصد ہے جبکہ امریکہ و یورپ میں شرح سود زیرو فیصد ہے۔ ان ممالک کے ساتھ پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو ہمارا شرح سود ابھی بھی خطے میں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کے تاجروں اور صنعتکاروں کی مشکلات کا ازالہ کرنے اور معیشت کو بحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے شرح سود کو مزید کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں کاروبار اور صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں جس وجہ سے کاروباری طبقے کو بینکوں کے قرضوں اور مارک اپ کی ادائیگی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے چھوٹے کاروباروں کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں تین ماہ کی چھوٹ دے کر ایک بہتر فیصلہ کیا ہے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کمرشل بینکوں کے ساتھ بات چیت کر کے صنعتی وکاروباری اداروں کو قرضوں اورمارک اپ کی ادائیگی میں بھی کم از کم چھ ماہ کی چھوٹ فراہم کرنے کی کوشش کرے تاکہ بزنس کمیونٹی کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے میں سہولت محسوس کرے اور اس قابل ہو کہ قرضوں کی ادائیگی کر سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here