’کورونا کے باعث پاکستان کے مالی خسارے، غربت کی شرح میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوگا‘

مہلک وائرس کے معاشی قہر کی بدولت مالی خسارہ 9.4 فیصد، غربت کی شرح 33 فیصد، ایک کروڑ اسی لاکھ نوکریاں داؤ پر لگنے سمیت برآمدات کے مالی حجم میں 3.8 ارب ڈالر کی کمی کا امکان

358

اسلام آباد : برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان کا مالی خسارہ لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوگا۔

ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر معاشی تباہی کو ممکنہ حد تک کم رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا آغاز ہوچکا ہے۔

رائٹرز کے کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق ریونیو میں کمی، اخراجات کی ترجیح میں تبدیلی اورعوام پر اخراجات میں اضافے کے باعث ملک کا مالی خسارہ 9.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جس کے بارے میں پہلے یہ اندازہ لگایا گیا تھا  کہ یہ 7.4 فیصد ہوگا۔

 دو حکومتی اہلکاروں کا رائٹرز کو بتانا تھا کہ اس بات کا خطرہ بھی موجود ہے کہ مالی خسارہ دوہندسوں میں چلا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن سے چھ لاکھ شہری بے روزگار، 40 سال میں سب سے بڑی تعداد ہے، ادارہ برائے شماریات

پاکستان پوسٹ کے تمام 83 جی پی اوز میں کمپیوٹرائزڈ پنشن ادائیگی کا نظام نافذ

کورونا کے باعث جی 20 ممالک کی معیشت 4 فیصد سکڑ جائے گی: موڈیز

مزید برآں امکان ہے کہ ملک میں غربت کی شرح 24.3 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہوجائے گی اور اگر حالات زیادہ خراب ہوئے تو یہ شرح 33.5 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔

حالات کے باعث صنعتی سعبے کے دس لاکھ جبکہ خدمات کے شعبے میں بیس لاکھ افراد کا روزگار ختم ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے ہاتھ لگنے والی وزارت خزانہ کی دستاویزات میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کا حوالہ دیکر بتایا گیا ہے کہ ملک میں کل ایک کروڑ اسی لاکھ نوکریاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں ٹیکس کلیکشن 16.4 فیصد کم رہی۔

مزید برآں برآمدات کے مالی حجم میں 2.8  سے 3.8 ارب ڈالر کمی کی توقع سمیت مشرق وسطی، امریکا اور یورپ سے آنے والی ترسیلات زر کے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ برس ترسیلات زر کا حجم 21.8 ارب ڈالر تھا جبکہ رواں برس اسکے 20 سے 21 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی اُمید ظاہر کی گئی ہے۔

تاہم درآمدات میں کمی  کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال 4.5 ارب ڈالر رہے گا جو کہ پچھلے سال 13.8 ارب ڈالر تھا۔

مزید برآں دستاویزات میں اندازہ لگایا گیا ہےکہ گزشتہ برس 3.29 فیصد بڑھنے والی معیشت رواں برس 1.5 فیصد سکڑ جائے گی

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here