کورونا، سال کی دوسری سہ ماہی میں دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی کا کاروبار 25 فیصد کم ہوجائے گا

طوفان کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے مگر کوورونا وائرس کے کمپنی کی سرگرمیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوئے، رواں برس کے بقیہ مہینوں میں غیر یقینی کی کیفیت رہے گی جس سے کاروبار سکڑ سکتا ہے: اے پی مولر مرسک

301

کوپن ہیگن: دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی A P Moller-Maersk کے کاروبار کو کورونا کے باعث زوردار دھچکا لگا ہے۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی کمپنی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ مہلک وائرس کے معاشی اثرات کے باعث پیدا ہونے والی  کساد بازاری کی وجہ سے سال کی دوسری سہ ماہی میں اسکا کاروبار 25 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایران: میزائل حادثاتی طور پر اپنے ہی جنگی بحری جہاز کو جا لگا، 19 افراد جاں بحق

کورونا کا قہر: دنیا کی دوسری قدیم ترین ائیر لائن کا دیوالیہ نکل گیا

کورونا کی صورتحال بہتر: ائیر عریبیہ کا پاکستان، بھارت کے لیے ریٹرن ٹکٹ کی بکنگ کھولنے کا فیصلہ

کمپنی کے سی ای او Soeren Skou کا کہنا تھا کہ ’’ گروپ طوفان کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا مگر کوورونا وائرس کے اس کی سرگرمیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں‘‘۔

مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے نتائج کے مطابق کمپنی کا ریونیو 9.6 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں اسکی آمدنی 9.5 ارب ڈالر تھی۔

یوں اسےرواں برس مارچ میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں 209 ملین ڈالر کا منافع ہوا

کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسے رواں برس کے بقیہ مہینوں میں غیر یقینی حالات کا سامنا رہنے کا اندیشہ ہے جس کے باعث اس کا کاروبار سکڑ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here