کورونا کا معاشی قہر، اوبر نے 3700 ملازمین برطرف کردیے

کمپنی کو سال کی پہلی سہ مالی میں 2.9 ارب ڈالر کا نقصان، لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باعث بہت سے کسٹمر سپورٹ افسران کے پاس کام نہ ہونے کے باعث یہ اقدام اُٹھایا گیا: اوبر

136

کورونا کے معاشی قہر نے بڑے بڑے کاروباری اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ان میں سے کچھ کو اس قدر شدید دھچکا لگا ہے کہ انھیں ان حالات میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ملازمین کی تعداد میں کمی کرنا پڑگئی ہے۔

اسی قسم کے حالات کا سامنا معروف ٹیکسی سروس اوبر کو بھی ہے جس نے اپنی افرادی قوت میں فوری طور پر 14 فیصد کمی کردی ہے۔

کمپنی کے اس فیصلے کے زیراثر 3700 ملازمین کی نوکریاں ختم ہوگئیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

لاک ڈائون میں گھروں تک محدود پاکستانیوں کیلئے اوبر کی ڈیلیوری سروس شروع

ٹیکسی سروس کریم کا کوررونا وائرس کے باعث ڈرائیورز کو ہیلتھ انشورنس، راشن دینے کا اعلان

آن لائن ٹیکسی سروس ’’اوبر‘‘ نے ’’کریم‘‘ کو خريد ليا

اوبر کی جانب سے نکالے جانے والے ملازمین کو اس فیصلے کی اطلاع ویڈیو کانفرنسنگ سروس ’ زوم ‘ کے ذریعے دی گئی۔

ملازمین کو یہ بری خبر کمپنی کی کسٹمر سروس کی سربراہ Ruffin Chaveleau  نے دی جنکا ویڈیو کال میں افسردہ لہجے میں ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’ ہم کسٹمر سپورٹ کی 3500 ملازمتیں ختم کر رہے ہیں جس سے آپ  بھی متاثر ہوئے ہیں اور آج آپ کا اوبر کیساتھ کام کرنے کا آخری دن ہے‘‘۔

کمپنی کی جانب سے نکالے جانے والے ملازمین کو اس فیصلے سےآگاہ کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا اس پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے جب کہ کچھ ملازمین نے بغیر کسی نوٹس کے برطرف کیے جانے پر احتجاج بھی کیا ہے ۔

اپنے اس فیصلے کی توجیح میں اوبر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث اسکی رائڈز کی تعداد آدھی رہ جانے کے باعث  بہت سے کسمٹر سپورٹ ملازمین کے پاس کام نہ ہونے کے برابر تھا لہذا اسے یہ اقدام اُٹھانا پڑا۔

واضح رہے کہ مہلک کورونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باعث کمپنی کو سال کی پہلی سہ ماہی میں 2.9 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here