ملکی قرضوں اور ادائیگیوں کا حجم بڑھ کر جی ڈی پی کے 98.2 فیصد کے برابر ہوگیا

جاری مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں قرضے 40.5 کھرب روپے جبکہ ادائیگیوں کا حجم 2.3 کھرب روپے ہوگیا جو جی ڈی پی کے 98.2 فیصد کے برابر ہے

435

کراچی : سٹیٹ بنک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ جاری مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ملکی قرضوں اور ادائیگیوں کا حجم 42.8 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 35.1 کھرب روپے تھا اور اب ٹھیک ایک سال بعد قرضوں میں 21.9 فیصد کا اضافہ ہو گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد قرضوں اور ادائیگیوں کا مشترکہ حجم پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 98.2 فیصد کے برابر ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کے باعث رواں برس دنیا میں ترسیلات زر 100 ارب ڈالر کم ہوجائیں گی : ورلڈ بنک

پاکستان کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوگئے

آئندہ سال حکومتی آمدن جی ڈی پی کے مقابلہ میں 15.8 فیصد تک بڑھنے کا امکان

42.8 کھرب میں سے قرضوں کا حجم 40.5 کھرب روپے ہے جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 22 فیصد زائد ہے، قرضوں کا یہ حجم ملکی جی ڈی پی کے 93 فیصد کے برابر ہے۔

ان قرضوں میں مقامی قرضوں کا حجم 22.4 کھرب روپے جبکہ بیرونی قرضے 16.6 کھرب روپے کے ہیں جس میں سرکاری قرض 11.6 کھرب روپے جبکہ غیر سرکاری قرض 3.2 کھرب روپے ہے۔

مزید برآں آئی ایم ایف کے قرضے میں بھی پچھلی سہ ماہی سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 1.04 کھرب روپے سے بڑھ کر 1.07 کھرب روپے ہوگیا ہے۔

مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ملک کی ادائیگیوں کا حجم 2.3 کھرب روپے ہے جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 10.8 فیصد زائد ہے۔

خطرناک بات یہ ہے کہ ادائیگیوں اور قرضوں کا حجم ملک کی معیشت کے سائز کے برابر ہوتا جا رہا ہے تاہم رواں برس صورتحال گزشتہ برس سے کچھ بہتر ہے جب ان کا حجم معیشت کے سائز سے بھی 4.3  فیصد بڑھ گیا تھا اور ایسا 2000ء کے بعد ہوا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here