صوابی : شدید ژالہ باری سے تمباکو کی فصل تباہ، کاشتکاروں نے حکومت سے مدد مانگ لی

متاثرہ علاقوں میں ماہرین کی ٹیم بھیج کر نقصان کا ازالہ کرنے کے علاوہ ٹیکسوں میں کمی، واجبات کی ادائیگی اور آسان قرضے فراہم کیے جائیں: کاشتکار کوآرڈینیشن کونسل

29

اسلام آباد: ضلع صوابی میں شدید ژالہ باری کی وجہ سے قیمتی فصلیں تباہ ہونے پر کاشتکاروں نے حکومت سے مدد مانگ لی ۔

متاثرہ کسانوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلی خیبر پختون خواہ محمود خان اور پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ژالہ باری سے متاثر ہونے والی فصلوں کے علاقوں میں ماہرین کی ٹیم بھیج کر نقصان کا اندازہ لگایا جائے اور اسکا ازالہ بھی کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کیا ہے؟

پاکستانی کمپنی کا الیکٹرک گاڑیوں کیلئے چارجنگ کی سہولت متعارف کرانے کا اعلان

قرضے کی قسط موخر کرنے کیلئے پاکستان کی جی 20 ممالک کو باضابطہ درخواست

کاشتکار کوآرڈینیشن کونسل کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ہر شعبے کو ریلیف فراہم کیا جارہا ہے مگر کاشتکاروں کو اس حوالے سے بھلا دیا گیا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسوں میں کمی کے علاوہ تمباکو سیکٹر میں پھنسے ہوئے واجبات کی ادائیگیاں کروائے اور کاشتکاروں کو سستے اور آسان قرضے فراہم کرے۔

کونسل کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ مزید خراب ہونے سے پہلے تمباکو کی فصل کی خریداری مکمل کرلی جائے ۔

کسانوں کی نمائندہ تنظیم نے مزید مطالبہ کیا کہ تمباکو کی غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت قوانین کا نفاذ کیا جائے کیونکہ یہ سرگرمیاں قومی خزانے کو بھاری ریونیو دینے والی تمباکو کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here