آئندہ مالی سال کے دوران گروتھ کی شرح دوفیصد رہے گی،  مشیر خزانہ

کورونا وائرس کی وجہ سے جاری مالی سال میں گروتھ کی شرح منفی ایک اعشاریہ پانچ ، مالیاتی خسارہ سات فیصد رہنے کا امکان ہے، ویبینار میں گفتگو

94

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے جاری مالی سال کے دوران بڑھوتری کی شرح منفی ایک اعشاریہ پانچ جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران دو فیصد رہنے کا امکان ہے۔

یہ بات انہوں نے جعمرات کو انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے زیراہتمام انٹرنیٹ پر منعقدہ سیمینار (ویبینار) میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے معیشت کے استحکام کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجہ میں جاری مالی سال کے دوران حکومت جی ڈی پی میں تین فیصد بڑھوتری کی توقع کررہی تھی تاہم کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کی وجہ سے جاری مالی سال میں گروتھ کی شرح منفی ایک اعشاریہ پانچ رہنے کا امکان ہے، آئندہ مالی سال کے دوران گروتھ کی شرح دو فیصد رہے گی۔

اسی طرح جاری مالی سال میں مالیاتی خسارہ میں 9 فیصد کمی کا امکان تھا جسے اب 7 فیصد کر دیا گیاہے، آئندہ مالی سال کے دوران خسارے میں مزید کمی اورجی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح میں بھی کمی لائی جائیگی۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں سال عالمی معاشی بڑھوتری میں تین فیصد کمی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے، عالمی معیشت سکڑنے کے نتیجہ میں پاکستان کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، ماہ اپریل میں برآمدات کی شرح میں گزشتہ سال اپریل کے مقابلے میں 40 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح لاک ڈاون اور اقتصادی سرگرمیوں میں سست روی کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، محصولات اکھٹا کرنے کی شرح میں کمی آئی ہے جس سے مصارف پر اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے وباء سے متاثرہ غریب  طبقات، شہریوں اور صنعت و تجارت کیلئے 1200 ارب روپے سے زائد مالیت کا امدادی پیکج جاری کیا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کی امدادی پیکج کی حمایت کی ہے، حکومت نے تعمیرات کے شعبہ کیلئے خصوصی مراعات اور سہولتیں دی ہیں جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی لانے  میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو ملک کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا تھا، ملک کو مشکل اقتصادی صورتحال سے نکالنے کیلئے سخت فیصلے کئے گئے  جس کے اثرات سامنے آئے، ان پالیسیوں کی وجہ سے حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب روپے سے کم کر کے تین ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، مارکیٹ میں روپے کی حقیقی ویلیو قایم ہوئی جس سے روپیہ کی قدر میں استحکام آ رہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجہ میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا پاکستان پراعتماد بحال ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here