پنجاب حکومت کو بدترین مالی خسارہ، 135 ارب کے ترقیاتی فنڈز روک لیے

مالی بحران کے باعث غیر ترقیاتی بجٹ پر بھی کٹ لگا دیا گیا، صوبائی محکموں کے سٹیشنری و دفتری سامان کی خریداری، غیرضروری پٹرول سمیت دیگر روزمزہ کے اخراجات بھی ختم کردیئے گئے

115

لاہور: پنجاب حکومت نے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث بدترین مالی خسارے کے پیشِ نظر صوبے میں 135 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز روک لیے جبکہ مالی بحران کے باعث غیر ترقیاتی بجٹ پر بھی کٹ لگاتے ہوئے صوبائی محکموں کے سٹیشنری و دفتری سامان کی خریداری، غیرضروری پٹرول سمیت دیگر روزمزہ کے اخراجات بھی ختم کردیئے گئے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے مزید فنڈز کے اجراء پر پابندی کے بعد موجودہ ترقیاتی بجٹ محکمہ خزانہ کو واپس کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب نے پی اینڈ ڈی بورڈ کو 135 ارب روپے کے فنڈز کے اجراء سے روک دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا سے مالی بحران بڑھ گیا ہے اور اسی سلسلے میں رواں مالی سال ختم ہونے سے پہلے ترقیاتی بجٹ واپس لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پنجاب حکومت نے ساڑھے 32 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید لی، 91 فیصد سے زائد باردانہ تقسیم

لاک ڈائون کے دوران پنجاب میں کونسا کاروبار کھلا اور کونسا بند ہے؟

پنجاب آب اتھارٹی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے افسران نے قبلہ درست نہ کیا تو بے نقاب کروںگا: گورنر پنجاب

محکمہ خزانہ کے حکام کے مطابق صوبائی خزانے میں شارٹ فال کے بعد فنڈز دیگر اخراجات پر استعمال ہوں گے۔ نئے احکامات کے بعد اب سرکاری محکموں کے پاس صرف ملازمین کی تنخواہیں چھوڑی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تمام بجٹ اکٹھا کر کے نئے مالی سال کا تخمینہ لگایا جائے گا، جس کے بعد نئے مالی سال میں محکموں کو ریشنلائز پالیسی کے تحت بجٹ دیا جائے گا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب حکومت نے کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین مالی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی ڈونرز سے رابطہ کرلیا۔

صوبائی حکومت کو بجٹ خسارہ دور کرنے کیلئے 10 ارب روپے کی فنڈنگ کا گرین سگنل بھی مل گیا، یہ ملنے والی رقم ترجیحی طور پر تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور اربن ڈویلپمنٹ سمیت پانی کے منصوبوں پر خرچ کی جائیگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here