ٹویٹر کا ملازمین کو ہمیشہ گھروں سے کام کی اجازت دینے کا فیصلہ 

62

سان فرانسسکو: کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے سماجی دوری کو ہی بہترین علاج سمجھا جا رہا ہے، کاروری کمپنیاں اور ادارے اپنے ملازمین کو وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے  اسی حکمت عملی کو اپنائے ہوئے ہے، وبا کے آغاز سے لے کر چھوٹے بڑے اداروں اور کمپنیوں کے ملازمین گھروں سے کام کر رہے ہیں۔

اب مشہور مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی نے کہا ہے کہ ان کے ملازمین جب تک چاہیں گھر سے کام کر سکتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی کی ترجمان نے بتایا کہ زیادہ تر افراد کو کورونا وائرس کی وباء ختم ہونے کے بعد بھی گھروں سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

کمپنی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں ثابت ہو گیا کہ ہمارے ملازمین گھروں سے کام کر سکتے ہیں تو اگر کمپنی کے ملازمین نے چاہا کہ وہ آگے بھی گھروں سے ہی کام کریں تو انہیں اجازت دے دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم ضروری اور محفوظ سمجھیں گے تو دفتروں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھول دیں گے۔

اس سے قبل گوگل اور فیس بک نے بھی اپنے زیادہ تر ملازمین کو رواں سال کے آخر تک گھروں سے کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی ٹی وی سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق فیس بک اپنے زیادہ تر دفاتر 6 جولائی سے کھولے گی تاہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ابھی یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ وہ کن ملازمین کو دفاتر سے کام کرنے کیلئے بلائے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل بھی کچھ ایسے ہی اقدامات کر رہی ہے۔

فیس بک ملازمین مارچ سے گھروں سے کام کر رہے ہیں، کمپنی کے مطابق وہ ان ملازمین کو ادائیگی جاری رکھے گی جو عملے میں کمی، دفتر بند ہونے یا بیمار ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے کہا ہے کہ ملازمین جولائی کے آغاز میں دفاتر آئیں گے لیکن اکثر ملازمین سے خدمات سال کے اختتام تک گھروں سے کام کروا کر ہی لی جائیں گی، اس سے قبل گوگل کا اصل منصوبہ یکم جون تک گھروں سے کام کرنے کا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here