دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے پاور چائنا اور ایف ڈبلیو او پر مشتمل جوائنٹ وینچر کے ساتھ 442 ارب روپے کے معاہدے پر دستخط 

تعمیراتی کام کا آغاز آئندہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں پانی، خوراک اور انرجی سکیورٹی کے لئے انتہائی ضروری ہے، وفاقی وزیر آبی وسائل

272

اسلام آباد: واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے ڈائی ورشن سسٹم، مین دیامر بھاشا ڈیم، رسائی کے لئے پُل اور 21 میگاواٹ صلاحیت کے تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے پاور چائنا اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) پر مشتمل جوائنٹ وینچر کے ساتھ  442 ارب روپے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔

بدھ کو واپڈا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میگا ہائیڈل پراجیکٹس آفس کمپلیکس میں منعقد ہوئی۔ واپڈا کی جانب سے دیا مر بھاشا ڈیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر بشیر چوہدری اور جوائنٹ وینچر کی جانب سے ینگ جیانڈو (Yang Jiandu) نے معاہدے پر دستخط کئے۔ وفاقی وزیر آبی وسائل محمد فیصل واوڈا، چینی سفیر یاؤ جنگ، وفاقی سیکرٹری آبی وسائل محمد اشرف، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ)، انجینئر انچیف آف پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز اور ڈی جی ایف ڈبلیواو میجر جنرل کمال اظفر بھی اِس موقع پر موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر آبی وسائل محمد فیصل واوڈا نے واپڈا اور جوائنٹ ونچر کو مبارکباد دی۔ اُنہوں نے کہا کہ دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز آئندہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں پانی، خوراک اور انرجی سکیورٹی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

آبی وسائل کی ترقی کے حوالے سے موجودہ حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں مہمند ڈیم کی تعمیر شروع کی گئی تھی جبکہ ایک سال کی قلیل مدت میں ملک میں دیا مر بھاشا ڈیم کی صورت میں ایک اور بڑے کثیر المقاصد منصوبے پر تعمیراتی کام شروع کیا جارہا ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔

اِس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ دیا مر بھاشا ڈیم ملک کی اقتصادی ترقی اور معاشرتی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اُنہوں نے اِس عزم کا اعادہ کیا کہ واپڈا اِس اہم منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرے گا تاکہ ملک میں پانی اور بجلی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

اُنہوں نے کہا کہ دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 1406.5 ارب روپے ہے اور یہ 2028 ء میں مکمل ہوگا۔ دیا مربھاشا ڈیم کی مجموعی لاگت میں زمین کی خریداری، متاثرین کی آباد کاری، مقامی لوگوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات پر مبنی منصوبے، مین ڈیم اور بجلی گھروں کی تعمیر شامل ہے۔

دیا مر بھاشا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1 ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4500 میگاواٹ ہوگی۔ منصوبہ ہر سال نیشنل گرڈ کو 18 ارب 10 کروڑ یونٹ کم لاگت پن بجلی مہیا کرے گا۔

تقریب سے پاکستان میں متعین چینی سفیر یاؤجنگ، انجینئر انچیف پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجازاور چیئرمین پاور چائنا یان زی یونگ نے بھی خطاب کیا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ واپڈا کی جانب سے قبل ازیں دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے کنسلٹنسی سروسز کا کنٹریکٹ بھی ایوارڈ کیا جاچکا ہے۔ 27 ارب 18 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا یہ کنسلٹنسی سروسز کنٹریکٹ دیامر بھاشا کنسلٹنٹس گروپ نامی ایک جوائنٹ ونچر کو ایوارڈ کیا گیا ہے۔

مشاورتی خدمات کی فراہمی کا یہ معاہدہ کنسٹرکشن ڈیزائن، کنسٹرکشن سپر ویژن اور کنٹریکٹ ایڈمنسٹریشن پر مشتمل ہے۔ دیامر بھاشا کنسلٹنٹس گروپ میں 12 نامور کنسلٹنگ فرمز بشمول نیسپاک (پاکستان)، ایسوسی ایٹ کنسلٹنگ انجینئرز (پاکستان)، موٹ میکڈونلڈ پاکستان (پاکستان)، پوئے ری (سوئٹزر لینڈ)، منٹگمری واٹسن اینڈ ہارزا (ایم ڈبلیو ایچ) انٹرنیشنل سٹینٹک (امریکہ)، ڈولسر انجینئرنگ (ترکی)، موٹ میکڈونلڈانٹر نیشنل (انگلینڈ)، چائنا واٹر ریسورسز بائی فانگ انویسٹی گیشن، ڈیزائن اینڈ ریسرچ کمپنی (چائنا)، مرزا ایسوسی ایٹس انجینئرنگ سروسز(پاکستان)، الکاسب گروپ آف انجینئرنگ سروسز(پاکستان)، ڈویلپمنٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ(پاکستان) اور ایم ڈبلیو ایچ پاکستان(پاکستان) شامل ہیں۔

نیسپاک جوائنٹ ونچر کی لیڈ فرم ہے۔ جوائنٹ ونچر میں شامل کمپنیوں کو دُنیا بھر میں پانی اور پن بجلی کے میگا پراجیکٹس کی تعمیر میں کنسلٹنسی سروسز مہیا کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

واپڈا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کی واٹر سکیورٹی اور دیا مر بھاشا ڈیم سمیت پانی اور پن بجلی کے مختلف منصوبوں کی تعمیر کے حوالے سے دو روز قبل منعقد ہونے والے اجلاس کے تناظر میں واپڈا کی جانب سے دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کے لئے کنٹریکٹرز کی بروقت سائٹ پر موبلائزیشن اور مؤثر فالو اپ کو یقینی بنانے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here