کورونا وائرس پھیلنے کی وجوہات سامنے لانے کا مطالبہ کرنے پر چین نے آسٹریلیا سے بڑے گوشت کی درآمد معطل کردی

چار آسٹریلوی کمپنیاں گائے کے گوشت کی برآمدات کا تقریبا 33.35  فیصد چین کو بھیجتی ہیں جس کی مالیت تقریبا  1.7 ارب آسٹریلوی ڈالر (1.1 ارب امریکی ڈالر) ہے

180

سڈنی: آسٹریلیا کے چین سے کورونا وائرس پھیلنے کی وجوہات سامنے لانے کے مطالبے کے بعد بیجنگ نے آسٹریلوی بڑے گوشت کی درآمد معطل کردی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آسٹریلیا اور اس کے سب سے اہم تجارتی شراکت دار کے مابین ممکنہ تعطل کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں جو دیگر اہم شعبوں میں جاسکتے ہیں۔

آسٹریلیا کے وفاقی وزیر تجارت برائے تجارت سائمن برمنگھم نے کہا ہے کہ چینی صحت اور لیبلنگ سرٹیفکیٹ کی ضروریات سے متعلق “معمولی تکنیکی” خلاف ورزیوں کے نتیجے میں گوشت کی کھیپ معطل کردی گئی ہے، یہ معطلی انتہائی تکنیکی امور پر مبنی ہے جو کچھ معاملات میں ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک میں صنعت اور حکام کے ساتھ مل کر ایک ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جس سے ان کاروباروں کو جلد سے جلد اپنے معمول کے مطابق کام شروع کرنے کی سہولت مل سکے۔

قومی نشریاتی ادارے اے بی سی کے مطابق گوشت برآمد کرنے والے چار آسٹریلوی ادارے گائے کے گوشت کی برآمدات کا تقریبا 33.35  فیصد چین کو برآمد کرتے ہیں جس کی مالیت تقریبا  1.7 ارب آسٹریلوی ڈالر (1.1 ارب امریکی ڈالر) ہے۔

یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب آسٹریلیا نے چین میں شروع ہونے والے کورونا وائرس بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here