درآمدکنندگان کا حکومتی احکامات نہ ماننے والی کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

ایف بی آر اور انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ نے پورٹ ٹرمینل اور شپنگ کمپنیوں کو لاک ڈاؤن کے دنوں میں ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارج نہ کرنے کی ہدیات کی تھی مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا: امپورٹرز

58

کراچی : کمرشل اور صنعتی امپورٹرز نے وزیراعظم سے حکومتی احکامات پر مسلسل عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

 ان احکامات کا تعلق  لاک ڈاؤن کے دنوں میں سامان لادنے پر تاخیر کی مد میں چارجز کی وصولی سے ہے۔

ایف بی آر اور انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ نے کمپنیوں کو ہدایت کی تھی کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز نہ لیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ایران: میزائل حادثاتی طور پر اپنے ہی جنگی بحری جہاز کو جا لگا، 19 افراد جاں بحق

کووڈ 19، ای کامرس کمپنیوں کی قسمت چمکنے کا وقت، لیکن مستقبل میں کیا ہوگا؟

پاکستان کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوگئے

فرینڈز آف بزنس اینڈ اکنامک ریفارمز کے صدر کاشف انور کا درآمدکنندگان کے وفد سے ملاقات میں کہنا تھا کہ دو ہفتے سے زائد گزرنے کے باوجود شپنگ لائنز کی جانب سے کسی قسم کے ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی پورٹ ٹرمینل نے ایسا کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ وزارت بحری امور کو ہدایت کی جائے کہ شپنگ ٹرمینلز اور شپنگ لائنزکو وبا ختم ہونے تک ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز نہ لینے کا پابند بنایا جائے۔

مزید برآں  ایسے درآمدکنندگان جو اپنی کنسائنمنٹ کلیئر کروانے کے لیے ڈیمرج کی ادائیگی کرچکے ہیں انکے پیسے بھی واپس دلوائے جائیں۔

انہوں نے ٹرمینل حکام کو ایف بی آر کے لاک ڈٓاؤن کے دنوں میں ڈیمرج سے متعلق احکامات ہوا میں اُڑانے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

انکا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب صوبائی ار وفاقی حکومتیں کاروباروں کو وبا کے دنوں میں سہولت دینے کی کوشش کر رہی ہیں ٹرمینل حکام نے ایف بی آر اور انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کی تجاویز کو رد کرکے صریحاً وزیراعظم کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں پورے ملک میں ہر محکمہ کاروباروں کو سہولت دینے کی کوشش کر رہا ہے مگر ٹرمینل حکام کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خراب معاشی حالات میں کاروباروں کے پاس سرمائے کی شدید کمی ہے اور ان حالات میں کمرشل اور صنعتی درآمد کنندگان کے پاس ڈیمرج اور ڈیٹینشن کی صورت میں مزید مالی نقصان برداشت کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی انڈسٹری کی جانب سے استعمال کیا جانے والا زیادہ تر خام مال ملک میں تیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ملکی صنعتوں کو درآمد شدہ سامان پر انحصار کرنا پڑتا ہے لہٰذا لاک ڈاؤن کے دنوں میں حکومت ہی کاروباری طبقے کے نقصانات کا ازالہ کرسکتی ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے ان تمام کمپنیوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جو ڈیمرج اور ڈیٹینشن کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عمل درآمد نہیں کر رہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here